تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 270
اور فرماتا ہے کہ اس واقعہ سے سبق حاصل کرو۔اور یاد رکھو کہ پیشگوئیاں کئی معنی رکھتی ہیں اور اصل حقیقت ان کی پورا ہونے پر ہی ظاہر ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ سے بھلائی طلب کرنی چاہیے نہ کہ کوئی ایسی چیز جس کے نیک و بد کا کچھ علم نہ ہو فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌکے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ایک یہ کہ ایسے امر کے متعلق دعا نہ کر جس کا تجھے علم نہ ہو اور یہ بھی ایک اہم بات ہے جس کے نہ جاننے کی وجہ سے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔انسان عالم الغیب نہیں اسے معلوم نہیں ہوسکتا کہ جس چیز کو وہ مانگتا ہے وہ اس کے لئے کیسی ہوگی۔مبارک یا منحوس۔پس دعا کرتے وقت ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہیےکہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرے کہ اگر یہ چیز اچھی ہو تو مجھے ملے ورنہ نہیں۔دعائےاستخارہ اور اس کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکتہ پر خود بھی عمل کیا ہے اور دوسروں سے بھی عمل کرایا ہے۔آپ ہر نئے کام سے پہلے یہ دعا مانگنے کا حکم دیتے ہیں۔اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌلِیْ فِی دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِی ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمَر شَرٌّلِّیْ فِی دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْلِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ (بخاری کتاب التہجد باب ما جاء فی التطوع مثنٰی مثنٰی)۔یعنی اے اللہ اگر تیرے علم میں یہ بات میرے لئے اچھی ہے میرے دین اور میری دنیا اور میرے انجام کے لحاظ سے تو یہ مجھے حاصل ہوجائے اور آسانی سے حاصل ہوجائے اور اس میں میرے لئے برکت ڈال دے۔اور اگر تیرے علم میں یہ بات میرے دین اور میری دنیا کے لحاظ سے اور میرے انجام کے لحاظ سے بری ہے تو تو اسے مجھ سے دور کردے اور میرے دل کو اس سے پھیر دے اور جو چیز میرے لئے اچھی ہو جہاں بھی ہو میرے لئے مہیا کردے اور مجھے بھی اس کے متعلق شرح صدر عطا فرمادے۔کیسی مکمل دعا ہے اور کس طرح اس اصل کی اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ انسان جس چیز کو اچھا سمجھتا ہے ضروری نہیں کہ وہ اچھی ہو بلکہ ممکن ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کے علم میں جو عالم الغیب ہے وہ بات انجام کو مدنظر رکھتے ہوئے بری ہو۔پس اس سے یہ نہیں کہنا چاہیےکہ وہ بات ہو اور وہ نہ ہو بلکہ یہ کہنا چاہیےکہ اگر اس کا انجام اچھا ہو تو پھر مجھے ملے ورنہ میرے دل سے اس کی خواہش نکال دے۔ہاں جن باتوں کا انسان کو علم ہو کہ وہ ضرور اچھی ہیں ان کے متعلق وہ دعا کرسکتا ہے کہ وہ اسے مل جائیں۔مثلاً ہدایت یا رضائے الٰہی یا لقائے الٰہی کی اگر انسان دعا کرے یا یہ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ دین اور دنیا کی خیر عطا کرے تو ایسی دعائیں جائز ہیں۔احتیاط ایسے امور کے متعلق کرنی چاہیےجن کا انجام معلوم نہیں اور حضرت نوح ؑ کا بیٹے کے لئے اشارتاً دعا کرنا کہ وہ کشتی میں چڑھ جائے