تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 269

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ فرمایا اے نوح وہ تیرے اہل میں سے ہرگزنہیں (اور تمہاری) یہ( دعا) یقیناً ایک (نادرست و )بے محل کام ہے۔صَالِحٍ١ۖٞۗ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّيْۤ اَعِظُكَ پس جس چیز (کی بھلائی یا برائی) کا تجھے کچھ علم نہیں وہ مجھ سے مت مانگ۔میں تجھے نصیحت کر تا ہو ں (تا)کہ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۰۰۴۷ تو (کہیں )جہالت دکھانے والوں میں سے (نہ) بنے۔تفسیر۔کوئی غیر مومن حقیقتاًنبی کے اہل خانہ سے نہیں ہو سکتا کیسے مختصر الفاظ میں حقیقت کو ظاہر کر دیا ہے۔کہ جب اہل کہا تھا تو اس سے مراد تمام اہل نہ تھے بلکہ مومن اہل تھے کیونکہ تیرا حقیقی اہل وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہو۔اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ کے دو معنی اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فقرہ حضرت نوح ؑ کی دعا کے متعلق ہو۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تیرا عمل یعنی دعا بے محل ہے کیونکہ صالح کے معنی مناسب حال کے ہوتے ہیں۔مطلب یہ کہ ہم پہلے اس امر کا اعلان کرچکے ہیں اور اب عذاب کا وقت آچکا ہے اب اس دعا کا فائدہ نہیں ہوسکتا۔اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ جملہ بیٹے کے متعلق ہو اور عمل بمعنی عامل کے ہو۔یا ذو کا لفظ محذوف ہو اور یہ دونوں باتیں عربی محاورہ کے مطابق جائز ہیں۔اس صورت میں اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ یہ لڑکا تیرے اہل میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ نامناسب اعمال کرتا رہا ہے۔یا یہ کہ اس کے عمل بے محل اور تقویٰ سے دور تھے۔عربی زبان کا محاورہ ہے کہ مبالغہ کے لئے مصدر کا صیغہ بجائے اسم فاعل کے استعمال کردیتے ہیں۔چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے فَاِنَّـمَا ھِیَ اِقْبَالٌ وَاِدْبَارٌ۔وہ (اونٹنی) اپنے بچوں کو کھوبیٹھنے کی وجہ سے ایسی بے قرار ہے کہ گویا آنا اور جانا ہی (بنی ہوئی ) ہے۔(لسان العرب زیر مادہ قیل) اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۔یعنی تو تو کلام الٰہی کا حامل ہے تجھے آئندہ چاہیےکہ کلام الٰہی کے سب پہلوؤں پر غور کر لیا کرے۔گویا یہ اجمال جو پیشگوئی میں واقع ہوا ہے اسی کو اللہ تعالیٰ آئندہ کے لئے ایک ذریعہ عبرت بناتا ہے