تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 245
استعمال ہوا ہے۔(مفردات) میرے نزدیک بشر آدمی اور انسان کے الفاظ مختلف لحاظ سے بولے جاتے ہیں۔انسان کے لفظ سے اس کی حقیقت اور اس کے اخلاق کو ظاہر کرتے ہیں۔بشر کے لفظ سے اس کے ڈھانچے اور ظاہری شکل پر زور دینا مدنظر ہوتا ہے۔اور آدمی کے لفظ سے اس کی ابتداء کا اظہار مطلوب ہوتا ہے۔أَرَاذِلُ۔اَرَاذِلُ اَرْذَلُ کی جمع ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔اس کا فعل رَذُلَ بھی ہوسکتا ہے جس کی مصدر رَذَالۃٌ ہے۔اور رَذَلَ بھی۔جو متعدی ہے او راس کی مصدر رَذْ لٌ ہے۔اور اس مؤخرالذکر صورت میں اَرْذَلُ بمعنی مَرْذُوْلٌ ہوگا۔رَذَلَہٗ کے معنی ہیں جَعَلَہٗ رذِیْلًا۔اسے رذیل قرار دیا۔ضِدُّ اِنْتَقَاہُ اسے ردی ٹھہرایا۔انتخاب میں ساقط کر دیا۔رد کر دیا۔ناپسند کیا۔ناقابل پذیرائی قرار دیا۔اَلْاَرْذِلُ اَیْضًا اَلدُّوْنُ فِی مَنْظَرِہٖ وَحَالَاتِہٖ کَالرَّذِلِ وَالرَّذِیْلِ اَرْذَلْ کا لفظ علاوہ افعل التفضیل کے معنوں کے اس چیز یا شخص کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو اپنے منظر یا حالات کی رو سے حقیر ہو۔اور یہی معنی لفظ رَذِلٌ اور رَذِیْلٌ کے ہیں۔یُقَالُ ثَوْبٌ رَذِلٌ وَ رَذِیْلٌ اَیْ وَسْخٌ رَدِیٌّ اور جب یہ الفاظ کپڑے کے لئے بولے جائیں تو ان کے معنی میلے اور ردی کے ہوتے ہیں۔(اقرب) بَادِی الرَّأْ ی۔بَادٰی کے معنی ظاہر کے ہیں۔یہ بَدَایَبْدُو سے نکلا ہے۔اور بعض لوگوں نے اسے بَدَءَ یَبْدَءُ سے قرار دیا ہے۔اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے شروع والا۔پہلا۔شروع کرنے والا۔پہل کرنے والا۔یہ لوگ بَادِیُ الرَّاْیِ کو بَادِيُء الرَّأْیِپڑھنا بھی جائز سمجھتے ہیں۔تفسیر۔اس اعتراض کا جواب کہ جب کہ ہماری ظاہری شکلیں یکساں ہیں تو باطنی میں فرق کیونکر ہو سکتا ہے؟ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا۔یعنی تیری ظاہری صورت و شکل ہم سے ملتی ہے اور تو ہماری ہی طرح کا ایک بشر ہے پھر ہم کیونکر تسلیم کریں کہ باطن میں تو ہم سے مختلف ہے اور کیونکر سمجھیں کہ تیری خدا کے دربار میں رسائی ہو گئی ہے اور کیونکر یقین کرلیں کہ تجھے ایسی طاقتیں ملی ہیں جو ہمیں نہیں ملیں جن کی وجہ سے تو تو خدا کی باتیں سن سکتا ہے اور ہم نہیں سن سکتے؟ انبیاء کے دشمن ہمیشہ سے یہی اعتراض کرتے چلے آئے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہوا کرتی ہے کہ انسان کے کمال کی بنیاد علوم کسبیہ پر ہوتی ہے۔جب یہ نبی کسبی علوم نہیں رکھتے تو انہیں خاص طاقتیں کیسے مل سکتی ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کے دشمن بھی یہی دلیل پیش کرکے اعتراض کرتے ہیں کہ اگر تم کو باطنی طور پر کوئی خاص قوتیں ملتیں تو چاہیےتھا کہ تمہاری ظاہری شکل بھی بدلی ہوئی ہوتی۔یعنی علوم ظاہر بھی تم کو خاص رنگ کے عطا ہوتے اور اگر کسبی علوم سے تمہاری عزت نہیں بلکہ خاص موہبت تم کو عطا ہوئی ہے تو پھر باطنی طاقتوں میں فرق کے ساتھ تمہاری ظاہری شکل