تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 238

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۰۰۲۳ یہ اٹل (بات) ہے کہ آخرت میں وہی (سب سے) زیادہ گھاٹا پانے والے ہوں گے۔حلّ لُغَات۔لَاجَرَمَ جَرَمَ یَـجْرِمُ جَرْمًا۔قَطَعَ کاٹ دیا۔لَاجَرَمَ قَالَ الفَرَّاءُ ھِیَ کَلِمَۃٌ کَانَتْ فِی الْاَصْلِ بِمَنْزِلَۃِ لَابُدَّ وَلَا مَحَالَۃَ فَـجَرَتْ عَلَی ذٰلِکَ وَکَثُرَتْ حَتّٰی تَحَوَّلَتْ اِلٰی مَعْنَی الْقَسَمِ۔وَصَارَتْ بِمَنْزِلَۃِ حَقًّا وَھُوَمَأْخُوْذٌ مِّنَ الْقَطْعِ۔فراء کا قول ہے کہ لَاجَرَمَ پہلے لَابُدَّ یعنی ضرور کے معنی میں استعمال ہوا کرتا تھا پھر کثرت سے استعمال ہوتے ہوتے اس کے معنی قسم کے بن گئے اور حَقًّا یعنی یقیناً کے معنی دینے لگا ورنہ اس کے اصل معنی یہی ہیں کہ اسے کوئی کاٹ نہیں سکتا یعنی یہ اٹل بات ہے۔(اقرب) تفسیر۔اُخروی نقصان صرف کفّار کو پہنچے گا یعنی دنیا میں تو یہ لوگ انبیاء کو اپنی شرارتوں سے کچھ نہ کچھ نقصان پہنچالیتے ہیں خواہ وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو لیکن آخرت میں سب نقصان انہی کو پہنچے گا۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ جو (لوگ) ایمان لائے اور انہوں نے نیک (اور منا سب حال) عمل کئے اور اپنے رب کی طرف جھک گئے وہ یقیناً اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۴ بہشت (میں رہنے) والے ہیں وہ اس میں رہا کریں گے۔حلّ لُغَات۔اَخْبَتَ اَخْبَتَ اِلٰی اللہِ اِطْمَئَنَّ اِلَیْہِ وَتَخَشَّعَ اَمَامَہٗ۔اللہ تعالیٰ کے سامنے فروتنی اور عاجزی کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔وَاَصْلُہٗ اَخْبَتَ اَیْ صَارَ اِلَی الْخَبْتِ اَیْ الْاَرْضُ الْمُتِّسَعُ الْمُطْمَئِنُّ۔اور اصل میں یہ اخبت سے نکلا ہے۔جس کے معنی ایک وسیع اور نشیب والی زمین میں داخل ہوجانے کے ہیں۔(اقرب) گویا اس لفظ سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے فروتنی کے ساتھ آکر اطمینان پاتے اور آرام محسوس کرتے ہیں اور سب اطراف سے منہ موڑ کر اس کی طرف جھک جاتے ہیں۔اور جس طرح کھلی زمین میں چلنے پھرنے میں سہولت ہوتی ہے۔اسی طرح وہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے میں اطمینان اور لذت پاتے ہیں۔تفسیر۔قرب الٰہی کی شرائط اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کمالات روحانیہ کے لئے ایمان اور