تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 237

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یہ وہ (لوگ ہیں) جو اپنے نفسوں کے متعلق گھاٹے میں رہیں گے اور جس (مدعا) کے لئے وہ (اللہ تعالیٰ پر) جھوٹ يَفْتَرُوْنَ۰۰۲۲ باندھتے تھےوہ ان (کے ہاتھ) سے جاتا رہے گا۔حلّ لُغَات۔خَسِرَ ضِدُّ رَبِـحَ نفع کے مقابل کا لفظ ہے یعنی گھاٹا کھایا۔ضَلَّ گمراہ ہوا۔ھَلَکَ ہلاک ہوا۔(اقرب) خَسِرَ متعدی نہیں بلکہ لازم ہے عربی زبان میں یہ لفظ ہمیشہ لازم ہی استعمال ہوتا ہے۔میں نے بڑی تحقیق کی ہے مگر مجھے نہیں ملا کہ یہ لفظ عربی کے استعمال میں کہیں بھی متعدی استعمال ہوا ہو۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ تمام کے تمام مفسرین خسروا کے معنی اھلکوا کرتے ہیں لیکن تاج العروس والا کہتا ہے کہ سارے اہل تصریف اس کو لازم ہی قرار دیتے ہیں مگر وہ سب غلطی پر ہیں کیونکہ قرآن کریم میں متعدی استعمال ہوا ہے لیکن حق یہ ہے کہ یہ لازم ہی ہے اور افسوس یہ ہے کہ ہماری لغتیں مذہبی اثر کے نیچے ہیں اور تفسیروں کے ماتحت لغت کو بھی کر دیا گیا ہے جس سے اسلام کو فائدہ نہیں پہنچا۔بلکہ نقصان پہنچا ہے اور کئی معارف قرآنیہ اس تصرف کی وجہ سے لوگوں کی نظر سے مخفی ہو گئے ہیں۔کاش کوئی شخص ہمت کرکے ایسی لغت تیار کرے جو تفسیروں کے اثر سے بالکل آزاد ہو تاکہ لوگ اس ناجائز دباؤ سے بالکل آزاد ہوجائیں اور قرآن کریم کے سمجھنے میں لوگوں کو سہولت حاصل ہوجائے۔خَسِرَ کے لفظ کے متعلق ہی اگر تفسیروں کا رعب ماننے کی بجائے عربی کے قواعد پر نظر کی جائے تو اسے خلاف محاورہ متعدی بنانے کی ضرورت نہ تھی۔ہم اس کے معنی اس طرح کرسکتے ہیں جس طرح سَفِہَ نَفْسَہٗ کے معنی کرتے ہیں۔یعنی صرف جارمحذوف تصور کرتے ہیں۔اور جملہ کو یوں تصور کرتے ہیں کہ سَفِہَ فِی نَفْسِہٖ یا تمیز خیال کرتے ہیں۔جو شاذ و نادر طور پر معرفہ بھی آجاتی ہے۔اسی طرح ہم خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ کے بھی یہ معنی کرسکتے ہیں کہ اپنے نفسوں کے بارہ میں گھاٹے میں پڑ گئے اور یہ معنی دوسرے معنوں سے زیادہ زوردار بھی ہوجاتے ہیں۔اور یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کا سب فریب خود اپنے ہی نفسوں کے خلاف پڑا ہے۔تمیز کی صورت میں بھی زور قائم رہتا ہے اور معنی اوپر والے ہی رہتے ہیں۔خَسِرَ الرَّجُلُ ضَلَّ وَھَلَکَ ہلاک ہوگیا۔(اقرب)