تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 236
كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ۰۰۲۱ سن نہیں سکتے اور نہ وہ (کچھ) دیکھ سکتے ہیں۔تفسیر۔اَرْضٌ کے معنی کل زمین کے ہوتے ہیں لیکن جب کسی خاص قوم کا ذکر ہو تو اس وقت ان کی زمین یعنی ان کا ملک مراد ہوتا ہے۔فرماتا ہے کہ افتراء کرنے والے کبھی بھی ملک میں غلبہ نہیں پاسکتے۔یعنی ان کی تدابیر دوسروں پر غالب نہیں آسکتیں۔جھوٹوںکو کبھی دوست اور مددگارنصیب نہیں ہو تے وہ خود ہی اپنی کوششوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو نصرت نہیں ملتی اور اس پر افتراء کرنے کی وجہ سے اور اس کے خلاف چلنے کے سبب سے وہ کہیں بھی مددگار نہیں پاتے۔یہ مطلب نہیں کہ ان کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کا کوئی ایسا دوست نہیں ہوتا جو ان کے کام آسکے اور ان کے مقصد کے بڑھانے میں ممد ہوسکے۔مِنْ دُوْنِ اللّٰهِکے معنی اس آیت کا یہ بھی مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ تو ان کا دوست ہوتا ہے مگر دوسرے لوگ دوست نہیں ہوتے۔بلکہ مراد یہ ہے کہ بوجہ افتراء کے خدا تعالیٰ تو ان کا دوست ہوہی نہیں سکتا۔مگر اس کے غضب کی وجہ سے جو ان کے ہمرنگ دوست ہوتے ہیں وہ بھی ان کے کام نہیں آسکتے۔يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ کے معنی ضعف کے معنی دگنے کے بھی اور زیادتی کے بھی ہوتے ہیں۔پس اس کے دونوں معنی ہیں۔ایک یہ کہ انہیں دگنا عذاب ہوگا۔اپنے گناہوں کا بھی اور ان کا بھی جنہیں انہوں نے گمراہ کیا۔دوسرے یہ کہ ان کا عذاب بڑھتا جائے گا۔کیونکہ وہ ایک غلط تعلیم پھیلا کر دنیا میں بدی کا بیج پھیلا گئے ہیں۔نفی سمع و بصر کے معنی مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ تعجب ہے کہ جھوٹے مدعی نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔حالانکہ ان سے پہلے دونوں قسم کے نبی گزر چکے ہوتے ہیں۔سچے بھی اور جھوٹے بھی۔لیکن نہ یہ ان کے انجام کو دیکھتے ہیں نہ ان کے حالات کو سنتے ہیں۔