تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 16

پر مجموعی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں دو مضامین پر زور دیا گیا ہے ایک پرانی تاریخ پر۔جس میں سے خاص طور پر شریروں کو سزا ملنے کے مضمون کو منتخب کرلیا گیا ہے اور دوسرے پیدائش عالم کے مضمون پر۔سورۂ یونس میں استفہام انکاری کے استعمال سے بتایا گیا ہے کہ نذیر و بشیر انبیاء ہمیشہ ہی آتے رہے ہیں۔سورہ ہود میں اول تو یہ قاعدہ بتایا ہے کہ کوئی قوم ایک ہی حالت پر قائم نہیں رہتی بلکہ ایک دائرہ کے اندر چکر لگاتی ہے۔اور پیدائش عالم کا ذکر کرکے بتایا کہ دنیا کی ترقی قانون ارتقاء کے ماتحت ہے۔اس کے بعد سورۂ یوسف میں صاف الفاظ میں تاریخ عالم کی طرف اشارہ کیا ہے۔سورۂ رعد میں چونکہ میم زائد تھا اس میں الٓمّٓ اور الٓرٰ دونوں مضمونوں کو جمع کر دیا ہے اور پہلے تو میم کی مناسبت سے ایک یقینی کلام کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے بعد پیدائش عالم کا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔سورئہ ابراہیم میں پھر قانونِ قدرت کا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اور بتایا ہے کہ اسے دیکھو اس میں تمہیں ایک بیدار آقا کا ہاتھ نظر آئے گا۔سورۂ حجر میں پھر پچھلی تاریخ کی طرف توجہ دلائی ہے۔اب یہ امر ظاہر ہے کہ واقعات اور قانون کا تعلق دیکھنے سے ہے۔حقیقت تک وہی پہنچ سکتا ہے جس کی آنکھوں کے سامنے واقعات ہوں۔یا جس کی آنکھوں کے سامنے کوئی قانون ظاہر ہو رہا ہو پس ان سورتوں کا رویہ کے ساتھ تعلق ہے۔اور الٓرٰ میں یہی دعویٰ کیا گیا ہے۔کہ میں اللہ دیکھتا ہوں۔نہ تو پرانی تاریخ میری نظر سے پوشیدہ ہے اور نہ قانونِ قدرت کا اجراءیا پیدائش عالم میری نگہ سے مخفی ہے۔پس روئیت سے تعلق رکھنے والے امور میں بھی میری ہی ہدایت کافی ہوسکتی ہے۔مقطعات والی سورتوں میں مابہ الاشتراک ایک اور بات بھی حروف مقطعات کے متعلق یاد رکھنی چاہیے کہ گو حروفِ مقطعات کے مضامین حروف کے اختلاف سے بدلتے رہتے ہیں لیکن ایک امر میں سب حروف مشترک ہیں اور وہ یہ کہ جو سورتیں حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں ان کے مضمون کی ابتداء وحی الٰہی کے ذکر سے ہوتی ہے۔اکثر میں تو صاف الفاظ میں کتاب یا قرآن کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے اور چند ایک میں کسی پرانی کتاب کی طرف اشارہ ہے۔جیسے سورۂ مریم میں۔یا کسی خاص کلام کی طرف اشارہ ہے۔جیسا سورۂ روم میں۔