تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 227
یہ چیلنج ہمیشہ کے لئے ہے اس جگہ ایک سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ یہ چیلنج حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک کے لئے ہی تھا یا اب بھی قائم ہے۔اس سوال کا جواب جمع مخاطب کی ضمیر استعمال کرکے دے دیا گیا ہے کہ یہ چیلنج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لئے خاص نہیں بلکہ ہر زمانہ کے لئے کھلا ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے خاص ہوتا تو اس کی جگہ یہ فرماتا کہ اگر وہ تیرے چیلنج کا جواب نہ دیں۔لیکن فرمایا یہ ہے کہ اگر ’’تمہارے‘‘ چیلنج کا جواب نہ دیں۔غرض لفظ ’’تمہارے‘‘ کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں مسلمانوں کو اس چیلنج کے پیش کرنے کا اختیار ہے۔اور قرآن کریم ان خوبیوں میں ہمیشہ بے مثل رہے گا۔فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ کے مخاطب کون ہیں؟ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ کا میرے نزدیک خطاب کفار سے ہے اور انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے اور اس کے معارضہ سے ہر ایک غیراللہ کے عاجز ثابت ہونے کے بعد بھی کیا تم اسلام نہ لاؤگے۔مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ جو (لوگ اس) ورلی زندگی (کے سامان) اور اس کی زینت کو( اپنا) مقصود بنائیں گے انہیں ہم ان کے اعمال اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَ هُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ۰۰۱۶ (کے پھل) اسی( زندگی) میں پورے پورے دے دیں گے اور انہیں اس میں کم نہیں دیا جائے گا۔حلّ لُغَات۔وَفّٰی فُلَانًا حَقَّہٗ تَوْفِیَۃً اَعْطَاہُ اِیَّاہُ وَافِیًا (اَیْ کَثِیْرًا) تَامًّا (اقرب) وَفّٰی کے معنی ہوتے ہیں کسی کو اس کا حق پورا اور کثرت کے ساتھ ادا کر دیا۔بَـخَسَہٗ یَبْخَسُ بَخْسًا۔نَقَصَہٗ کم کر دیا وَمِنْہُ لَاتَبْخَسْ اَخَاکَ حَقَّہٗ اور اس سے یہ محاورہ ماخوذ ہے کہ اپنے بھائی کا حق کم نہ کر۔اَوْعَابَہٗ یا اس کے معنی عیب لگانے کے ہوتے ہیں۔وَبَخَسَ النَّاسَ أَخَذَمِنْہُمْ شَیْئًا بِاسْمِ الْعُشْرِ اور اس کے معنی عشر یعنی ٹیکس کے وصول کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔تفسیر۔دنیا کا حصول دین پر موقوف نہیں فرماتا ہے جو کوئی ورلی زندگی کو اس کی زینت یعنی اموال و دولت کو چاہتا ہے ہم اس کو پورا پورا حق دے دیں گے۔یعنی جس امر کے پیچھے وہ پڑا ہے اس سے محروم نہیں کیا جائے گا۔جو لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ مسیحیوں کے پاس اس وقت بڑی دولت ہے انہیں اس آیت پر غور کرنا