تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 226
ہے کہ جہاں جہاں مثل طلب کی گئی ہے وہاں صرف فصیح عربی کی مثل طلب کی گئی ہے۔اور سب آیتوں میں ایک ہی مطالبہ ہے۔حالانکہ معاملہ بالکل برعکس ہے۔ان پانچ سورتوں میں ایک ہی مطالبہ نہیں بلکہ مختلف مطالبے ہیں اور ہر مطالبہ کے مناسب حال پورے قرآن یا بعض قرآن کی مثل طلب کی گئی ہے۔فصاحت و بلاغت میں نظیر کا مطالبہ اب رہا یہ سوال کہ آیا ان مطالبات میں فصاحت وبلاغت کا مطالبہ شامل ہے یا نہیں؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً شامل ہے۔لیکن ضمنی طور پر۔نہ کہ اصل مقصود کے طور پر۔کیونکہ اعلیٰ مطالب بغیر اعلیٰ الفاظ اور عمدہ تراکیب کے ادا ہی نہیں ہوسکتے۔پس چونکہ قرآن کریم بہترین مطالب پر حاوی ہے اس لئے ضروری تھا کہ اس کے لئے بہترین الفاظ اور بہترین طریقہ ادائیگی کو اختیار کیا جاتا۔ورنہ اس کے مطالب مشتبہ رہتے اور جب قرآن کریم کا فصیح ترین الفاظ اور بلیغ ترین عبارات میں نازل ہونا اس کے مطالب کے لحاظ سے ضروری تھا اور وہ اسی رنگ میں نازل ہوا ہے تو جس جس حصہ کی مثل کا مطالبہ کیا گیا ہے اس میں فصاحت و بلاغت کا مقابلہ بھی ضرور شامل رہے گا۔فَاِلَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ پس اگر وہ تمہاری (یہ) بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ (یہ علوم کا خزانہ) جو( تم پر) اتارا گیا ہے اللہ (تعالیٰ) کے وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۰۰۱۵ (خاص) علم پر مشتمل ہے۔اور یہ کہ اس کے سوا کوئی (ہستی) بھی پرستش کے لائق نہیں۔پس کیا تم کامل فرمانبردار بنو گے( یا نہیں)۔تفسیر۔قرآن کا علم الٰہی پر مشتمل ہونا اس کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہے فرماتا ہے کہ اگر یہ لوگ اس چیلنج کو قبول نہ کریں تو اس سے ثابت ہوجائے گا کہ یہ کلام خدا تعالیٰ کے علم پر مشتمل ہے۔اور اس میں ایسے امور بیان ہوئے ہیں جنہیں انسان دریافت نہیں کرسکتا۔تبھی تو ہر انسان اس کی مثل لانے سے قاصر ہے۔دوسرے اس سے یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ خدا ایک ہی ہے۔کیونکہ اگرایک سے زائد خدا ہوں تو جب انہیں بھی قرآن کریم کی مثل پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے تو کیوں نہ وہ ایک ایسا ہی کلام پیش کرکے اسے جھوٹا ثابت کریں۔سب طرف سے خاموشی کا ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ خدا ایک ہی ہے اور اس کا کوئی ثانی نہیں