تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 225
نکال کر پیش کردیں اور پھر مطالبہ بھی نہایت چھوٹا رکھا ہے۔کہ ایسی ایک ہی پیشگوئی پیش کردیں۔حالانکہ قرآن کریم میں اور بھی عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں اور پھر دشمن کے عاجز رہنے کی وجہ بھی بتادی ہے کہ ایسی پیشگوئی کے بیان کرنے کے لئے تو زمین اور آسمان کے خالق اور خزانوں کے مالک اور نگراں اور روحانی ترقی کے مالک اور غیب کے مالک کی ضرورت ہے اور یہ باتیں ان میں نہیں۔پس یہ کیونکر اس کی مثل بناسکتے ہیں؟ دوسرے حصہ کو یعنی پہلی کتب سے مثال نہ لاسکنے کے دعویٰ کو رد کرنا ضروری نہیں سمجھا۔کیونکہ وہ کتب سچی تھیں۔صرف درجہ کا سوال تھا۔یہ مطالبہ بھی باقی مطالبوں کی طرح اب تک قائم ہے۔پھر کیا کوئی انسان خواہ کسی مذہب کا ہو سورۂ طور کی اس آیۃ کی مثل لانے کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ اگر ہے تو آگے آکر اسے پیش کرے۔سورئہ بقرہ والی تحدّی پانچواں مطالبہ سورۂ بقرہ میں ہے اور اس میں بھی سورۂ یونس کی طرح ایک سورۃ لانے کا مطالبہ ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ(البقرۃ:۲۴)۔اس جگہ بھی اپنے دعویٰ کی ہی مثل طلب کی ہے اور وہ دعویٰ یہ ہے ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (البقرۃ:۳)۔سورۂ یونس کی آیت کے پہلے بھی لَارَیْبَ فِیْہِ ہے۔گویا ایک سورۃ کی مثل کے مطالبہ کا لَارَیْبَ فِیْہِ سے خاص جوڑ ہے۔اس مطالبہ سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ ہے۔یعنی اعلیٰ مدارج روحانیہ تک پہنچاتا ہے۔پس فرمایا کہ اگر قرآن کریم کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے میں تمہیں کوئی شک ہے تو اس کے روحانی اثر کا مقابلہ کرلو۔کوئی ایک ہی سورۃ لے آؤ جو قرآن کریم کے مقابلہ میں روحانی تاثیرات رکھتی ہو۔قرآن کریم کی ہر ایک سورۃ اعلیٰ سے اعلیٰ تاثیرات پیدا کرنے والی ہے قرآن کریم میں یہ تاثیر ہے کہ اس کی کوئی سورۃ بھی آدمی پڑھے اس کے دل میں اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی تاثیرات پیدا ہونے لگیں گی۔گویا بجائے شکوک پیدا کرنے کے وہ شکوک کو قطع کردیتا ہے۔اور لوگوں کو ایسے مقامات تک پہنچادیتا ہے کہ وہاں شک باقی ہی نہیں رہتا اور یہ تعلق باللہ کا مقام ہے۔یہ مقام صرف قرآن کریم کی تلاوت سے حاصل ہوتا ہے۔دوسرا کوئی کلام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قرآن کریم کی ہر اک سورت ان روحانی تاثیرات میں ایسی بے مثل ہے کہ کوئی اور کلام اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔اوپر کی تشریحات سے یہ امر ثابت ہے کہ درحقیقت یہ پانچوں مطالبے الگ الگ ہیں اور سب ایک ہی وقت میں قائم ہیں۔کوئی مطالبہ کسی دوسرے مطالبہ کو منسوخ نہیں کرتا۔اور سب غلطی اس امر سے لگی ہے کہ خیال کرلیا گیا