تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 224

کیا گیا تھا کہ سب تصرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اس کے ثبوت میں قرآن کریم کو پیش کرکے اس کے متعلق پانچ دعوے کئے تھے۔وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ(یونس:۳۸)۔یعنی اول اس میں ایسی تعلیم ہے جسے انسان بنا ہی نہیں سکتا۔دوم پہلی کتب کی اس میں تصدیق ہے۔سوم اس میں پہلی کتب کے نامکمل احکام کو مکمل کیا گیا ہے۔چہارم یہ کلام بالکل محفوظ اور انسانی دستبرد سے پاک ہے۔پنجم اس کی تعلیم تمام قسم کے انسانوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے۔اس کے بعد فرمایا کہ اگر یہ سچ نہیں تو پھر تم بھی ایک سورۃ ایسی بناکر پیش کردو جس میں وہ پانچ باتیں جو بیان کی گئی ہیں ایسے مکمل طور پر بیان ہوں جیسی کہ اس سورۃ یعنی یونس میں بیان کی گئی ہیں۔لیکن اگر ایک سورۃ کے مقابلہ میں بھی تم کوئی کلام نہ پیش کرسکو تو پھر سمجھ لو کہ سارے کلام میں کس قدر کمالات مخفی ہوں گے اور ان کا بنانا انسانی طاقت سے کس قدر بالا ہوگا۔غرض کہ اس جگہ مِثْلِہٖ سے مراد ان پانچ کمالات کی مثل والا کلام ہے جو سورۂ یونس میں بیان کئے گئے ہیں۔سورئہ طور والی تحدی کے بالمقابل کسی اور پیشگوئی کا مطالبہ اب رہی آخری آیت یعنی فَلْیَاْتُوْابِحَدِیْثٍ مِثْلَہٗ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ (الطور:۳۵) کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی ایسی ہی بات پیش کرکے دکھاؤ۔میرے نزدیک اس آیت میں سب سے چھوٹا مطالبہ ہے اور وہ صرف ایک مثال کا ہے۔خواہ وہ ایک سورۃ سے بھی چھوٹی ہو اور یہ مطالبہ بھی اپنے دعوے کے ثبوت میں ہے نہ کہ کفار کے دعوے کے رد میں۔اور وہ دعویٰ وہی ہے جو اس سورۃ کے شروع میں کیا گیا ہے۔یعنی وَ الطُّوْرِ۔وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ۔فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ۔وَّ الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ۔وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ۔وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ۔اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ۔مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ(الطور:۲ تا ۹)۔یعنی یہ کتاب جس کا وعدہ طور پر دیا گیا تھا اور جو لکھی جائے گی اور ہمیشہ پڑھی جائے گی اور دنیا میں پھیلائی جائے گی اور اسلام جس کے متبعین کی تعداد بہت بڑھ جائے گی اور نہ صرف عوام بلکہ اعلیٰ طبقہ کے لوگ روحانی و جسمانی فضائل والے اس میں داخل ہوں گے۔اور یہ روحانیت کا چشمہ جو مختلف ملکوں کو سیراب کرے گا ان دونوں امور کو ہم بطور قیامت کی دلیل کے پیش کرتے ہیں۔اس ذکر کے بعد فرمایا کہ کیا یہ لوگ اس کلام کو بناوٹی کہتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو جو جو اور جس جس قسم کی پیشگوئیاں اوپر پیش کی گئی ہیں ان کی مانند یہ بھی ایک پیشگوئی پیش کردیں۔اور مفتریات کی بھی ہم شرط نہیں لگاتے۔انہیں اجازت ہے کہ یہ چاہیں تو پچھلی الہامی کتب سے ہی کوئی ایسی مثال نکال کر پیش کردیں مگر یاد رکھیں کہ یہ اس کی نظیر کہیں سے نہیں لا سکتے۔اس مطالبہ میں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بھی کوئی شرط نہیں اور نہ یہ شرط ہے کہ اپنے پاس سے کوئی پیشگوئی کریں۔بلکہ اجازت دی ہے کہ خواہ خود بنالیں یا پچھلی کتب سے جو خواہ الہامی ہوں خواہ غیرالہامی