تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 223
باذن الٰہی ہم پر اتاری ہیں۔پھر دیکھو! کہ تمہارا کیا انجام ہوتا ہے؟ اور اگر تم میں یہ جرأت نہیں کہ تم ایسا جھوٹا دعویٰ کرسکو تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کس طرح خیال کرسکتے ہو کہ اس قدر افترا کررہا ہے۔اور اگر افترا کررہا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی گرفت سے محفوظ کیوں ہے؟ دس سورتوں کا مطالبہ کفار کی لَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ والی طمع کے جواب میں ہے غرض اس جگہ عقلی مقابلہ کے ساتھ آسمانی مقابلہ کو بھی شامل کیا گیا ہے اور یہ جو اس جگہ فرمایا کہ دس سورتیں ایسی لاؤ اس کی یہ وجہ ہے کہ اس جگہ قرآن کریم کے ہر رنگ میں مکمل ہونے کا دعویٰ نہ تھا بلکہ کلام بعض القرآن کے متعلق تھا۔یعنی مخالف معترض تھا کہ اس کے بعض حصے قابل اعتراض ہیں جیسا کہ آیت فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ سے ظاہر ہے اور اسی طرح کفار کے اس سوال سے بھی ظاہر ہے کہ اس کے پاس خزانہ اور ملک نہیں۔پس اس جگہ سارے قرآن کے مقابلہ کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم قرآن میں جو بھی کمزور سے کمزور حصہ سمجھتے ہو اس کے مقابلہ میں دس سورتیں بنا کر پیش کردو تا تمہارے دعوے کی آزمائش ہو جائے۔دس کا عدد اختیار کرنے کی وجہ دس کا عدد اس واسطے استعمال کیا کہ یہ عدد کامل ہے اور چونکہ معترض کے دعویٰ کو ردّ کرنا تھا اس وجہ سے اس کو دس سورتیں بنانے کو کہا کہ تم کو ایک مثال نہیں دس مثالیں بنانے کی اجازت دیتے ہیں۔پس یہاں دس کا لفظ اس لئے نہیں رکھا گیا کہ وہ ایک سورۃ تیار کرسکتے تھے بلکہ اس لئے کہ ان کے اس اعتراض کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ یہی تھا کہ انہیں کئی مواقع اعتراض کے دیئے جاتے اور سب اس لئے نہیں کہا کہ اس وقت جن معترضوں کا ذکر تھا وہ صرف بعض حصوں کو قابل اعتراض قرار دیتے تھے سب کو نہیں۔سورۃ بنی اسرائیل کے مطالبہ اور سورۃ ہود کے مطالبہ کے فرق کی وجہ غرض سورۂ بنی اسرائیل میں چونکہ تکمیل کا دعویٰ تھا اس میں قرآن شریف کی مثل کا مطالبہ کیا گیا اور سورۂ ہود میں چونکہ کفار کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ بعض حصے غیرمعقول ہیں اس لئے فرمایا کہ دس ایسے حصے جو تمہارے نزدیک سب سے کمزور اور قابل اعتراض ہوں تم انہیں کے مقابل میں کوئی کلام بناکر پیش کردو۔تاکہ کفار یہ نہ کہیں کہ ہمیں صرف ایک اعتراض کا حق دیا تھا اور اس کا مقابلہ کرنے میں ہم سے غلطی ہو گئی۔سورئہ یونس والی تحدی اور ایک سورۃ کی مثل کا مطالبہ تیسرا مقام جس میں قرآن کریم کی بے مثلی کا دعویٰ ہے سورۂ یونس ہے اس میں ایک سورۃ کا مطالبہ کیا ہے جو پہلے دونوں مطالبوں سے کم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مطالبہ اپنے ایک دعویٰ کے ثبوت کے لئے تھا نہ کہ کفار کے اعتراض کی تردید میں۔اس جگہ اس آیت سے پہلے دعویٰ