تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 217
اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ کیا وہ کہتے ہیں (کہ) اس نے اس (کتاب) کو اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔تو (انہیں) کہہ کہ اگر تم (اس بیان مُفْتَرَيٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ میں) سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں اپنے پاس سے گھڑی ہوئی (بنا) لاؤ اور اللہ (تعالیٰ) کے سوا ئےجس (کو بھی كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۱۴ اپنی مدد کے لئے لانے )کی تمہیںطاقت ہو اسے بلا لو۔تفسیر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی وقت بھی حقیقی خزانہ سے تہی دست نہیں ہو ئے اس آیت سے میرے ان معنوں کی جو پہلی آیت میں میں نے کئے تھے تصدیق ہو گئی۔گذشتہ آیت میں ان کے اس اعتراض کے کہ اب یہ ہمارے اعتراضوں سے ڈر کر قرآن کریم کے بعض حصوں کو ضرور چھوڑ دے گا دو جواب دیئے گئے تھے۔اول یہ کہ تو تو نذیر ہے تو نے خدائی کا دعویٰ تو کیا ہی نہیں کہ یہ چیزیں ساتھ لانا بھی تیرا کام ہو۔دوم یہ کہ تو تو پیغامبر ہے جو پیغام تجھے ملے گا تو اس کے ظاہر کرنے پر مجبور ہے۔اس جواب پر کفار کی طرف سے یہ اعتراض ہوسکتا تھا کہ یہ تو صرف تمہارا دعویٰ ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو ہمارا خیال تو یہی ہے کہ جب تمہارے ساتھ کوئی خاص طاقت نہیں تو تم مفتری ہو۔سو اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا کہ گو ظاہری خزانے ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں ہیں۔مگر باطنی خزانہ موجود ہے۔اور خزانہ بھی وہ جس کے برابر ایک انسان تو کیا سب دنیا کے پاس مجموعی طور پر بھی دولت نہیں ہے۔اور وہ قرآن کریم ہے۔پس اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو کہ ہمارا رسول مفتری ہے اور اس کے لائے ہوئے کلام کے بعض حصے ناقص ہیں اور بدلنے کے قابل ہیں تو سارے قرآن کریم کے برابر نہیں صرف دس سورتوں کے برابر کوئی کلام پیش کردو۔جو اس کے ان حصوں کی مثل ہو جن کو تم بدلنے کے قابل سمجھتے ہو اور اگر ایسے حصوں کی مثل بھی پیش نہ کرسکو جو تمہارے نزدیک ناقص ہیں اور بدلنے کے قابل ہیں تو تم کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کے پاس وہ خزانہ ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں مل سکتی۔آیات تحدی و مطالبہ نظیر فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ۔سورۂ یونس میں بتایا جاچکا ہے کہ یہ مضمون کئی جگہ آیا