تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 212
فَخُوْرٌۙ۰۰۱۱ سے دور ہو گئی ہیں یقیناً یقیناً وہ بہت ہی اترانے والا (اور) بہت ہی فخر کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔یَئِسَ۔یَؤُسٌ یَئِسَ سے صیغہ مبالغہ اسم فاعل کا ہے۔اور اس کے معنی ہیں قَنَطَ۔نہایت درجہ کا مایوس (اقرب) کَفُورٌ کَفُوْرٌبھی صیغہ مبالغہ اسم فاعل ہے۔اور اس کے معنی ہیں نہایت ناشکرگزار۔چنانچہ اس پرہاء تانیث نہیں آسکتی اور اس کی مصدر کَفُوْرٌ یا کُفْرَانٌ ہے۔کَفَرَ النِّعْمَۃَ۔جَحَدَھَا وَسَتَرَھَا۔وَھُوَضِدُّ الشُّکْرِ ناسپاسی کی۔ناشکری کی۔محسن کے احسان کا انکار کیا۔اور اسے چھپایا۔(اقرب) اَلنَّعْمَآءُ اَلْیَدُ البَیْضَآءُ الصَّالِحَۃُ روشن اور نمایاں نعمت و احسان جو مناسب وقت اور مناسب حال ہو۔(اقرب) ضَرَّآءٌ اَلضَّرَّآءُاَلزَّمَانَۃُ۔اپاہج ہونا یا ہوجانا۔قویٰ کا معطل ہو جانا۔آفت، اَلشِّدَّۃُ سختی، مصیبت، تکلیف، دکھ۔اَلنَّقْصُ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ۔مالی اور جانی نقصان۔نَقِیْضُ السَّرَّآءِ خوشی کا عکس یعنی غم و اندوہ کی حالت۔(اقرب) اَلسَّیِّئَۃُ نَقِیْضُ الْحَسَنَۃِ۔سَیِّئَۃ حَسَنَۃ کی نقیض ہے (اقرب) وَالْحَسَنَۃُ یُعَبَّرُبِھَا عَنْ کُلِّ مَایَسُرُّ مِنْ نِعْمَۃٍ تَنَالُ الْاِنْسَانُ فِی نَفْسِہٖ وَبَدَنِہٖ وَاَحْوَالِہٖ۔وَالسَّیِّئَۃُ تَضَادُھَا۔(مفردات) حسنہ ہر ایک خوش کن نعمت کو کہتے ہیں۔خواہ جان کے متعلق ہو یا جسم یا دیگر حالات کے متعلق۔اور سیئہ کا لفظ اس کی ضد ہے۔فَرحٌ فَرِحٌ بھی صیغہ مبالغہ اسم فاعل کا ہے۔اور اس کا فعل فَرِحَ ہے۔فَرِحَ الرَّجُلُ۔اِنْشَرَحَ صَدْرَہٗ بِلَذَّۃٍ عَاجِلَۃٍ۔کسی وقتی لذت کی وجہ سے بہت ہی خوش ہوا۔بَطَرَ۔اترایا۔غرور میں آ گیا۔(اقرب) پس فَرِحَ کے معنی ہوئے کسی وقتی لذت کی وجہ سے حد سے زیادہ خوش ہونے والا یا اترانے والا۔فَـخُوْرٌ فَـخُوْرٌبھی صیغۂ مبالغہ اسم فاعل کا ہے اور فَـخَرَ سے نکلا ہے۔فَخَرَ تَمَدَّحَ بِالْخِصَالِ وَبَاھٰی بِالْمُنِاقِبِ وَالْمَکَارِمِ مِنْ حَسَبٍ وَنَسَبٍ وَغَیْرُذٰلِکَ۔اِمَّافِیْہِ اَوْفِی اٰبَائِہٖ اس کے معنی ہیں اپنی طرف فضائل منسوب کرکے ان پر فخر اور ناز کیا۔اور اپنے منہ سے اپنی بڑائی بیان کی (اقرب)۔پس فَـخُوْرٌ کے معنی ہوئے اپنے فضائل و مناقب کا اظہار کرکے ان پر بہت ہی فخر اور ناز کرنے والا۔