تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 14
مگر حق یہ ہے کہ ایک قسم کے حروف مقطعات کی سورتوں کا ایک جگہ پر جمع ہوجانا بتاتا ہے کہ ان کے معنوں میں اشتراک ہے اور یہ حروف سورتوں کے لئے بطور کنجیوں کے ہیں۔حروف مقطعات کے معانی کا استنباط قرآن کریم سے میرے نزدیک حروف مقطعات کے معنوں کے لئے ہمیں قرآن کریم ہی کی طرف دیکھنا چاہیے۔پہلی سورتوں میں الٓمّٓ آیا تھا۔چنانچہ سورہ بقرہ کے پہلے یہی حروف تھے اور ان کے بعد ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠(البقرۃ:۳) کا جملہ تھا۔اس کے بعد آل عمران میں الٓمّٓ آیا۔جس کے بعداللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ۔نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ (آل عمران:۳،۴) آیا۔یاد رکھنا چاہیے کہ حق اور لاریب کے دراصل ایک ہی معنی ہیں پس بقرہ میں بھی الٓمّٓ کے بعد ایسی کتاب کا ذکر تھا جس میں ریب نہ ہو اور اس جگہ بھی۔پھر اعراف میں الٓمّٓصٓ آیا اور اس کے بعدكِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ (الاعراف :۳)۔کی آیت رکھی گئی۔گویا یہاں بھی لاریب فیہ والی کتاب کا ذکر ہوا ہے۔کیونکہ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ ، لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ کتاب پر ہی دلالت کرتا ہے۔ان ابتدائی سورتوں کے بعد وقفہ دے کر عنکبوت الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے۔فرماتا ہےالٓمّٓ۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۔وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ (العنکبوت:۲تا۴)۔ان آیات میں بھی ایک یقینی کتاب کا ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ امتحان شک اور ریب کے دور کرنے پر ہی دلالت کرتا ہے۔پس اس سورت میں بھی وہی مضمون ہے جو سورہ بقرہ وغیرہ میں تھا۔مگر بقرہ میں انسان بحیثیت مجموعی مخاطب تھے اور یہاں مومنوں سے کہا گیا ہے کہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ابھی شک تمہارے دلوں میں باقی ہو۔اور ہم تم سے معاملہ کاملین والا کرناشروع کردیں؟ سورۂ روم میں بھی یہی مضمون ہے۔گو بہت باریک ہو گیا ہے۔فرماتا ہےالٓمّٓ۔غُلِبَتِ الرُّوْمُ۔فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ(الروم:۲ تا ۴)۔خدا تعالیٰ کا کلام روم کے متعلق نازل ہوا ہے۔اور وہ ضرور پورا ہوکر رہے گا۔گویا بجائے سب کتاب کی طرف اشارہ کرنے کے ایک خاص حصہ کی طرف اشارہ ہے۔اور اس کے یقینی ہونے پر زور دیا ہے جیسا کہ من اور س کے حروف سے ظاہر ہے۔الٓمّٓ کے معنی سورہ روم کے بعد سورہ لقمان الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے۔اس میں فرماتا ہے۔الٓمّٓ۔تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ۔هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ۔الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۔اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(لقمان:۲ تا ۶)۔اس سورۃ میں بھی حکیم کا لفظ استعمال کرکے ایک یقینی امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اور گویا بقرہ کے ابتدائی مضمون کو دہرا دیا گیا ہے۔اس کے بعد سورۂ سجدہ ہے۔