تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 186

ذریعہ سے ایمان کو مضبوط کرنا جبر نہیں ہے۔بلکہ یہی واحد ذریعہ ایمان پیدا کرنے کا ہے۔بغیر اس کے کہ خدا تعالیٰ اپنی مرضی کے حصول کا طریق بتائے لوگ اس تک پہنچ ہی کب سکتے ہیں۔پس اگر اس طریق کو اختیار نہ کیا جاتا تو ہدایت پانا کسی کے لئے بھی ممکن نہ ہوتا۔ان معنوں کے وقت اذن کے معنی ارادہ کے ہوں گے یعنی جب تک اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ سے ہدایت کا سامان مہیا نہ کرے۔انسان ہدایت نہیں پاسکتا۔وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور اذن کو نہیں مانتے ان پر ہم جبر نہیں کرتے۔ہاں ان کے فعل کے مطابق ہم نتیجہ نکال دیتے ہیں۔چونکہ وہ بدی کی طرف جاتے ہیں اس لئے ہم یہ نتیجہ نکال دیتے ہیں اور یا یہ کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے انہی کو ہم بدی میں مبتلا ہونے دیتے ہیں دوسروں کو نہیں۔قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ تو (انہیں )کہہ (کہ) دیکھو (تو) آسمانوں اور زمین میں کیا( ہو رہا) ہے اور (نصرت الٰہی کے) نشانات اور( عذاب وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۱۰۲ سے) متنبہ کرنے والے ان لوگوں کو جو( ضد سے) ایمان نہیں لاتے (کچھ بھی) فائدہ نہیں پہنچاتے۔حلّ لُغَات۔غِنَاءٌ۔مَایُغْنِیْ عَنْکَ ھٰذَا اَیْ مَایُجْدِیْ عَنْکَ (اقرب) یعنی اَغْنٰی عَنْہُ کے معنی ہیں فائدہ پہنچانا۔نُذُرٌ۔اَلنُّذُرُ نَذِیْرٌ کی جمع ہے جس کے معنی متنبہ کرنے والے کے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔آسمانی اور زمینی نشانات اور ترقی کے سامانوں کے ہوتے ہوئے جبر کی ضرورت ہی کیا ہو سکتی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کے سامان آسمان و زمین میں پیدا ہورہے ہیں۔پس کسی جبر کی ضرورت ہی نہیں ہے۔آخری حصہ آیت نے صاف بتا دیا ہے کہ آسمان و زمین کی طرف توجہ دلانے سے مراد نشانات ارضی و سماوی ہیں۔تبھی تو فرماتا ہے کہ جنہوں نے ایمان نہیں لانا ہوتا اور ضد سے کام لیتے ہیں اُن کو نشانات بھی فائدہ نہیں پہنچاتے۔