تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 185
وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ يَجْعَلُ اوراللہ (تعالیٰ) کے( دئیے ہوئے) اذن کے سوا( کسی طور پر) ایمان لانا کسی شخص کے اختیا رمیں نہیں اور وہ( ایمان نہ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۰۰۱۰۱ لانے کی وجہ سے )اپنا غضب ان (ہی) لوگوں پر (نازل) کرتا ہے جو عقل( رکھتے ہوئے اس) سے کام نہیں لیتے۔حلّ لُغَات۔اَذِنَ اَذِنَ بِالشَّیْءِ اِذْنًا عَلِمَ۔جانا۔معلوم کیا۔لَہٗ فِی الشَّیْءِ اَبَاحَ اجازت دی۔اَلْاِذْنُ اَلْاِجَازَۃُ جانے دینا۔اجازت دینا۔اَلْاِرَادَۃُ چاہنا۔اَلْعِلْمُ جاننا (اقرب) رِجْسٌ اَلرِّجْسُ اَلْقَذِرُ۔گند۔اَلْمَأْثَمُ گناہ۔گناہ کا کام۔اَلْعَمَلُ الْمُؤَدِّیْ اِلَی الْعَذَابِ ایسا کام جس کا نتیجہ عذاب اور سزا ہو۔اَلشَّکُّ شک۔اَلْعِقَابُ سزا۔اَلْغَضَبُ ناراضگی۔(اقرب) تفسیر۔ایمان خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قواعد پر چلنے کے سوا کسی طریق سے حاصل نہیں ہو سکتا اس آیت کے دو معنی ہیں۔اوّل یہ کہ اس آیت میں جبر سے باز رہنے کے دلائل دیئے ہیں اور فرمایا ہے کہ ممکن نہیں کہ کوئی جان سوائے اللہ تعالیٰ کے اذن کے یقین لے آئے۔یعنی یقین خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قواعد کے ماتحت پیدا ہوتا ہے۔خالی منہ کے اقرار سے نہیں پیدا ہوتا۔پس تم جبر کرکے یقین نہیں پیدا کرسکتے۔اور جو لوگ عقل سے نہیں مانتے یونہی بے سوچے سمجھے مانتے ہیں ان کے ایمان ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان پر وبال ہی آتا ہے۔پس اگر تم ظاہری طور پر لوگوں سے اقرار کرا بھی لو تو اس کا فائدہ کچھ نہ ہوگا۔کیسے نادان لوگ ہیں جو باوجود ان تعلیمات کے قرآن کریم پر جبر کا الزام لگاتے ہیں۔قرآن کریم تو بدلائل جبر کی تعلیم کے خلاف وعظ کرتا ہے۔اس تعلیم کو منسوخ کرنے والے بھی ناواقف لوگ ہیں۔کیونکہ حقیقی دلائل کبھی رد نہیں ہوا کرتے۔جبر کے خلاف یہ دلائل تو ہر زمانہ میں درست ثابت ہوتے ہیں۔پھر ان کی منسوخی کے کیا معنی۔انبیاء اور نشانات کے ذریعہ سے منوانا جبر و اکراہ نہیں دوسرے معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ پہلی آیۃ یعنی اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ (یونس:۱۰۰) پر یہ اعتراض پڑ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ جبر نہیں کرتا۔تو پھر انبیاء کے ذریعہ سے شریعت کیوں بھیجتا ہے۔اور انذار و تبشیر سے کیوں کام لیتا ہے۔یہ بھی تو ایک قسم کا اکراہ ہی ہے۔سو اس کا جواب اس آیت میں دے دیا ہے کہ انبیاء کے ذریعہ سے ہدایت کا اعلان کرنا اور اپنی قدرتوں کے