تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 177
لَہٗ فِیْہِ (اقرب) جگہ دی۔ٹھہرایا۔پس مُبَوَّأٌ کے معنی ہیں ٹھہرانے کی جگہ یا ٹھہرانا۔جگہ دینا۔صِدْقٍ صدق ہر وہ چیز جو ظاہر و باطن طور پر اچھی ہو۔(دیکھو سورۂ یونس زیر آیت نمبر۳) تفسیر۔اَلطَّیِّبَاتُ۔یعنی پاک چیزیں۔پاک چیزوں میں سے سب سے مقدم الہام الٰہی ہے۔کیونکہ وہ تازہ بتازہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔اور دوسری چیزیں بھی مراد ہوسکتی ہیں۔کیونکہ بنی اسرائیل فرعون کی اینٹیں مفت بنایا کرتے تھے۔وہاں ان کو پاکیزہ رزق کہاں میسر آسکتا تھا۔اس وقت تو وہ چوریاں وغیرہ ہی کرتے ہوں گے۔مگر وہاں سے نکل کر ان کو رزق حلال مل گیا۔علم سے مراد اور اَلْعِلْمُ سے مراد قرآن کریم ہے۔نہ کہ تورات۔کیونکہ تورات کے نزول اور بنی اسرائیل کی قوم کے قیام کے درمیان تو وقفہ ہی نہ تھا کہ جس میں وہ اختلاف کرسکتے۔اختلاف سے مراد اس آیت کے یہ معنی نہیں کہ کلام الٰہی کے ایک سے زیادہ معنی کرنے منع ہیں۔کیونکہ یہ تو خود قرآن کریم کی دوسری آیات کے خلاف ہے۔بلکہ اس جگہ اختلاف سے مراد ایک نبی کے متعلق اختلاف ہے۔بنی اسرائیل سب کے سب متفق تھے کہ ایک نبی آئے گا لیکن جب وہ آ گیا تو اختلاف کر دیا۔جس طرح آج مسلمانوں نے کیا۔کہ مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کو سب مانتے تھے اور آمد کی پیشگوئیاں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں ان کو بھی مانتے تھے۔لیکن جب موعود آ گیا تو انہوں نے قبول نہ کیا۔اور یہاں تک کہہ دیا کہ مسیح کی آمد کے متعلق پیشگوئیاں ہی وضعی ہیں۔پس اختلاف سے مراد پیشینگوئیوں کے متعلق اختلاف ہے کہ پہلے تو ان کو مانتے رہے لیکن مصداق کے ظہور کے وقت بعض نے اس کا انکار کر دیا۔اور بعض نے پیشینگوئیوں تک کا انکار کر دیا۔مَا اخْتَلَفُوْا سے مراد توراۃ نہیں اس امر کا ثبوت اس جگہ مَا اخْتَلَفُوْا سے مراد توراۃ نہیں ہے۔یہ ہے کہ آگے چل کر فرمایا ہے فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الخ (یونس:۹۵) کہ اے مخاطب اگر تجھے اس کلام الٰہی میں کوئی شک ہے جو ہم نے تجھ پر اتارا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں بھی نزول قرآن ہی کا ذکر ہے۔یہود موسیٰ ؑ کی مانند ایک نبی کی آمد کا جو عرب میں پیدا ہونے والا تھا اس قدرا نتظار کررہے تھے کہ تاریخوں میں لکھا ہے کہ بعض یہود نے مدینہ میں آکر پہلے ہی سے بودوباش اختیار کرلی تھی۔تاکہ اس نبی کو سب سے پہلے ماننے والوں میں سے وہ ہوں۔لیکن جب وہ نبی آ گیا۔تو اس کے سب سے بڑے دشمن وہی ثابت ہوئے۔