تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 176
ہیں۔اور پھر واقعات اسی کی صداقت ثابت کرتے ہیں۔اور بائیبل ناقص ثابت ہوتی ہے۔یہ کون سا فرعون تھا بعض مفسروں نے اس فرعون کا نام رعمسیس لکھا ہے لیکن یہ درست نہیں۔رعمسیس وہ فرعون تھا جس نے حضرت موسیٰ کو پالا تھا۔لیکن حضرت موسیٰ کی نبوت کا زمانہ وہ ہے جبکہ اس کا دوسرا بیٹا منفتاح تختِ حکومت پر بیٹھا۔بائیبل سے بھی اس کی طرف اشارہ ملتا ہے۔کیونکہ لکھا ہے کہ موسیٰ کی پیدائش کے وقت بنی اسرائیل رعمسیس نامی شہر بناتے تھے۔(خروج باب ۱ آیت ۱۱) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے بادشاہ کا نام رعمسیس تھا۔پھر خروج ب۲ آیت ۲۳ میں لکھا ہے کہ وہ بادشاہ مر گیا۔اور دوسرے کے پاس موسیٰ آئے۔پس رعمسیس کا بیٹا منفتاح تھا جس کے پاس موسیٰ آئے تھے اور وہی غرق ہوا۔(نیز دیکھو جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ Merneptah) ایمان لانے میں توقف نہ کرنا چاہیے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو ایمان میں جلدی کرنی چاہیے۔جب بھی نیک تحریک ہو اسے جلدی پورا کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ضائع نہیں کرتا۔اب دیکھو فرعون موت کے وقت ایمان لاتا ہے تو اس کی لاش کو امن دیا جاتا ہے۔جب وہ لوگوں کی ہدایت کا موجب ہوگا تو کچھ نہ کچھ تو اسے اس کے ایمان کا فائدہ پہنچے گا۔حضرت محی الدین ابن عربی کا اسی وجہ سے یہ مذہب ہے کہ فرعون جہنم میں نہیں جائے گا۔(شرح القاشانی علی فصوص الحکم زیر عنوان فص موسوی) وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ اور ہم نے یقیناً یقیناً بنی اسرائیل کو ظاہری اور باطنی (ہر قسم کی) خوبی والی جگہ دی تھی۔اور( ہر قسم کی) پسندیدہ چیزیں مِّنَ الطَّيِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ (بھی)انہیں دی تھیں۔پھر اس وقت تک کہ ان کے پاس( صحیح) علم آگیا۔انہوں نے (کسی امر میں) اختلاف نہ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۰۰۹۴ کیا۔تیرا رب ان کے درمیان اس (امر کے) بارہ میں جس میں وہ (اب) اختلاف کر رہے ہیں یقیناً قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔حلّ لُغَات۔بَوَّأَ مُبَوَّءٌ بَوَّءَمیں سے اسم ظرف یا مصدر میمی ہے۔بَوَّأَہٗ وَبَوَّأَ لَہٗ مَنْزِلًا ھَیَّأَہٗ وَمَکَّنَ