تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 175
آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۰۰۹۲ کیا اب( تو ایمان لاتا ہے )حالانکہ پہلے تو نے نافرمانی کی۔اور تو مفسدوں میں سے تھا۔تفسیر۔بعد از وقت ایمان سود مند نہیں ہوتا ایمان بھی خاص حالات میں ہی فائدہ دیتا ہے۔جب حق بالکل کھل جائے تب ایمان کا نفع باقی نہیں رہ جاتا۔کیونکہ ثواب محنت اور قربانی کے بدلہ میں ملتا ہے۔اور جس بات کے سمجھنے کے لئے کوئی محنت نہ کرنی پڑے اس کا ثواب بھی کوئی حاصل نہیں ہوتا۔فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً١ؕ پس اب ہم تیرے بدن (کے بقا) کے ذریعہ سے تجھے (ایک جزوی) نجات دیتے ہیں۔تاکہ جو لوگ تیرے پیچھے (آنے وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَؒ۰۰۹۳ والے) ہیں۔ان کے لئے تو ایک نشان ہو۔اور لوگوں میں سے بہت سے (افراد) ہمارے نشانو ں سے یقیناً یقیناً بے خبر ہیں۔تفسیر۔خدا تعالیٰ کی جزائیں بھی عجیب پرحکمت ہوتی ہیں۔فرعون ایسے وقت میں ایمان لایا کہ اس کا ایمان صرف ایک بے جان ڈھانچہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس کے بدن کو بچا لیا۔اور اس کے ایمان جیسی ہی اسے نجات دے دی۔یعنی روح کو تو فائدہ نہ پہنچا جسم کو بچا دیا کہ دوسروں کے لئے عبرت ہو۔فرعون کے جسم کا بچایا جانا نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ فرعون کے جسم کے بچائے جانے کا ذکر قرآن کریم کے سوا دوسری کتب میں نہیں ہے۔بائیبل اس امر میں خاموش ہے۔اور تاریخیں ساکت ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی باتیں کیسی سچی ہوتی ہیں آج تین ہزار سے زائد سالوں کے بعد فرعون موسیٰ یعنی منفتاح کی لاش مل گئی ہے۔اور قاہرہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔اور میں نے اپنی آنکھوں سے اسے دیکھا ہے۔چھوٹے قد کا دبلا سا ایک شخص ہے جس کے چہر ہ سے حماقت اور غضب دونوں قسم کی صفات ظاہر ہوتی ہیں۔کجا وہ زمانہ اور کجا یہ زمانہ۔خدا تعالیٰ نے اس کے جسم کو نہ صرف بچایا بلکہ پچھلوں کے لئے اسے عبرت کا موجب بنانے کے لئے اس کی لاش کو اس وقت تک محفوظ رکھا ہے۔صداقتِ قرآن پر زبردست نشان یہ آیت قرآن کریم کی سچائی پر کیسا زبردست شاہد ہے۔اور بائیبل پر اس کی کس قدر فضیلت ثابت کرتی ہے۔بائیبل کا دعویٰ ہے کہ وہ موسیٰ کے وقت کی تاریخ بیان کرتی ہے اور اسی وقت لکھی گئی تھی۔قرآن کریم اس کے قریباً دو ہزار سال بعد آتا ہے اور وہ واقعات بیان کرتا ہے جو بائیبل میں بیان نہیں