تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 145
لوگوں میں نیکی کے ساتھ شہرت بھی دنیا میںایک بشریٰ ہے ششم اسی طرح صحابہ کے اس سوال پر کہ اَلرَّجُلُ یَعْمَلُ العَمَلَ وَیَحْمَدُہُ النَّاسُ عَلَیْہِ وَیَثْنُوْنَ عَلَیْہِ بِہٖ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِلْکَ عَاجِلُ بُشْرَی الْمُؤْمِنِ(تفسیر ابن کثیرزیر آیت ھذا)۔یعنی ایک شخص عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اس کی تعریف اور ثناء کرتے ہیں کیا اسی کو اس کی نیکی کا بدلہ سمجھ لیا جائے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کو جو نیک بدلے ملنے والے ہیں انہی میں سے یہ ایک دنیوی بدلہ ہے۔رؤیا صالحہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے ہفتم۔عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یُبَشَّرُہَا الْمُؤْمِنُ جُزْءٌ مِّنْ تِسْعَۃٍ وَأَرْبَعِیْنَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّۃِ۔فَمَنْ رَأی ذٰلِکَ فَلْیُخْبِرْبِہَا وَمَنْ رَأَی سِوَی ذٰلِکَ فَاِنَّمَا ھُوَمِنَ الشَّیْطَانِ لِیَحْزُنَہٗ فَلْیَنْفُثْ عَنْ یَّسَارِہٖ (ابن کثیر زیر آیت ھٰذا) یعنی عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ اس سے مراد خواب ہے۔اور یہ انچاسواں حصہ نبوت کا ہے۔پس جو ایسی خواب دیکھے وہ بے شک دوسرے کو بتادے۔اور جو اس کے سوا یعنی بری خواب دیکھے اس کی وہ خواب شیطان کی طرف سے ہے تاکہ اس کو غم میں مبتلا کرے۔پس اسے چاہیے کہ بائیں طرف تھوک دے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بری خواب کا بیان کرنا ناپسندیدہ ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ کی نبوت اس قسم کی نہیں بعض لوگوں نے غلطی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی کو بھی اسی قسم کا قرار دیا ہے۔لیکن یہ غلط ہے کیونکہ ان خوابوں کے دیکھنے والوں کی بعض خوابوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطانی بھی قرار دیا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو خدا تعالیٰ نے مامور کیا تھا جس کی کوئی خواب یا کوئی الہام شکی نہیں ہوسکتا۔اور آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ مجھے اپنے الہام پر ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ قرآن کریم پر۔پس جو لوگ الہام کے منکر ہیں احادیث سے ان کو الہام کی ضرورت کا قائل کیا جاسکتا ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اس قسم کے الہام سے بالا کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ہاں یہ سچ ہے کہ مبشرات کا لفظ عام ہے۔اسے انبیاء کے الہامات کے لئے بھی بول سکتے ہیں۔اور اولیاء کے الہام پر بھی۔پس یہ آیت سب قسم کے الہاموں کی خبر دیتی ہے۔ان میں سے جو صحابہ سے تعلق رکھتے تھے رسول کریم صلعم نے بیان کر دیئے۔لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ کے معنی لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِمیں دو باتیں بتائی گئی ہیں۔اول یہ کہ یہ خدا تعالیٰ کا قدیم قانون ہے اور چونکہ قدیم سے یہ قانون ہے اس لئے اب بھی ایسا ہوگا۔دوم یہ کہ یہ وعدہ ہمارا ایسا ہے کہ جس کے متعلق ہم یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ وہ بدلے گا نہیں۔یعنی بعض امور غیبیہ کلمات اللہ میں شامل نہیں ہوتے۔اور وہ بدل جاتے ہیں۔لیکن بعض امور غیبیہ کلمات اللہ کہلاتے ہیں اور وہ ہرگز