تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 144

لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ۔قَالَ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یُرَاھَا الْمُسْلِمُ اَوْتُرٰی لَہٗ(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔ترجمہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت لَهُمُ الْبُشْرٰى فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ کے متعلق فرمایا کہ اس بشریٰ سے رؤیا صالحہ مراد ہے۔جسے مومن اپنے متعلق خود دیکھتا ہے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا شخص دیکھتا ہے۔دوم۔تفسیر ابن جریر میں ابوالدرداء سے روایت آئی ہے۔سَأَلَہٗ رَجُلٌ عَنْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ فَقَالَ سَئَلْتَ عَنْ شَیْءٍ مَاسَمِعْتُ اَحَدًا سَأَلَ عَنْہُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْہُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ ھِیَ الرُّوْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاھَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ اَوْ تُرٰی لَہٗ بُشْرَاہُ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَبُشْرَاہُ فِی الْاٰخِرَۃِ (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا)یعنی ایک شخص نے ابوالدرداء سے اس آیت کے معنی پوچھے۔انہوں نے (اس پر خوش ہوکر) کہا۔آپ نے ایسی بات پوچھی ہے جو اس سے پہلے ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی۔جس کے بعد میں نے کسی اور سے یہ سوال نہیں سنا تھا۔آپ نے جواباً فرمایا تھا کہ اس سے مراد رؤیا صالحہ ہے۔جو ایک مسلمان شخص (خود) دیکھتا ہے یا اس کے متعلق کوئی اور دیکھتا ہے۔پس یہ اس زندگی میں بھی اس کے لئے بشارت ہے اور آخرت میں بھی اس کے لئے بشارت ہے۔سوم۔عبادۃ بن الصامت سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق پوچھا۔آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے کبھی کسی نے یہ سوال نہیں کیا تِلْکَ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاھَا الرَّجُلُ اَوْ تُرٰی لَہٗ (تفسیر ابن کثیرزیر آیت ھذا)یعنی اس سے مراد رؤیا صالحہ ہے جسے انسان خود دیکھے یا اس کے متعلق کوئی دوسرا دیکھے۔چہارم۔ایک اور روایت میں ہے۔یَرَاھَا الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فِی الْمَنَامِ اَوْتُرٰی لَہٗ (تفسیر ابن کثیرزیر آیت ھذا) یعنی اس سے مراد رویا صالحہ ہے جسے خدا کا مومن بندہ خواب میں خود (اپنے متعلق) دیکھتا ہے یا اس کے متعلق کوئی اور دیکھتا ہے۔پنجم۔عبادۃ بن الصامت کی ایک اور روایت ہے کہ لَقَدْ عَرَفْنَا بُشْری الْاٰخِرَۃِ الْجَنَّۃُ فَمَا بُشْرَی الدُّنْیَا قَالَ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاھَا الْعَبْدُ اَوْ تُرٰی لَہٗ وَھِیَ جُزْءٌ مِّنْ اَرْبَعَۃٍ وَاَرْبَعِیْنَ جُزْءًا أَوْ سَبْعِیْنَ جُزْءًا مِّنَ النُّبُوَّۃِ۔یعنی ہمیں آخرت کی بشریٰ کے متعلق تو علم ہو گیا ہے کہ اس سے مراد جنت ہے۔مگر دنیا کی بشریٰ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا وہ رویا صالحہ ہے جو بندہ دیکھتا ہے۔یا اس کی خاطر کسی اور کو دکھائی جاتی ہے اور وہ نبوت کا چوالیسواں یا سترھواں حصہ ہے۔(ابن کثیر زیر آیت ھذا)