تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 7
پر مشتمل ہوگا جن کی طرف اس زمانہ کے لوگوں نے توجہ کرنی ہے اور نیز پیش گوئیوں پر جو آئندہ اس کے صدق دعویٰ پر دلیل ہوں اسی طرح شریعت کے بعض ابتدائی مسائل بتائے جائیں گے۔(۲) دوسرا زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ اس کے دعویٰ کی حقیقت کو سمجھ کر اس کی مخالفت پر آمادہ ہوں گے اور اس کی آمد کو عبث قرار دیں گےاور اس کے عقائد جو وہ خدا تعالیٰ کے متعلق یا ایک مذہبی نظام کے متعلق بیان کرتا ہو اسے ردّ کریں گے اور کچھ لوگ مان بھی لیں گے۔اس وقت اس امر کی ضرورت ہو گی کہ اس کی آمد کی غرض کو بتایا جائے اور پہلی تاریخ کی شہادت سے اس کے دعویٰ کو سنۃ اللہ کے مطابق بتایا جائے۔اور عام عقلی دلائل اس کے دعویٰ کی تائید میں بتائے جائیں۔اور پہلے انبیاء کے حالات سے سبق لینے کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی جائے اور شریعت کی بعض تفصیلات بتائی جائیں اور ماننے والوں کو ان کے فرائض سے اور کامیابی کے لئے جدوجہد کے اصول سے آگاہ کیا جائے۔(۳) پھر اس کے بعد تیسرا زمانہ وہ ہوگا کہ اس میں شریعت مکمل کرکے اس کو بطور حجت کے پیش کیا جائےاور جو پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہوں ان کو پیش کرکے مخالفین کو قائل کیا جائے۔غرض خود اس نبی کے اپنے کام پیش کرکے بتایا جائے کہ یہ سچا ہے جھوٹا نہیں۔اور جو کام کرچکا ہے وہی اس امر کا ثبوت ہے کہ اسے ماننے میں دنیا کی بہتری ہے۔لیکن پہلے زمانہ کے بعد جو لوگ آئیں گے وہ مذہب سے ایسے ناواقف نہ ہوں گے جیسے کہ پہلے زمانہ کے لوگ۔ان کے سامنے ایک قائم شدہ جماعت ہو گی۔جس کے دعویٰ سے ایک حد تک وہ واقف ہوں گے ان کے سامنے سب سے پہلا سوال یہی ہوگا کہ اس مدعی کے دعویٰ کو کیوں تسلیم کیا جائے اس کی تعلیم دوسری تعلیموں کے مقابلہ میں کیوں قابلِ قبول ہے اور اس کے کیا کام ہیں؟ جب ان امور کو سمجھ کر کوئی شخص مذہب کی حقانیت کو سمجھ جائے گا تو دوسرے نمبر پر علم کی زیادتی کے لئے اسے یہ ضرورت ہو گی کہ منہاج نبوت کی بناء پر اصولی رنگ میں بھی وہ صداقت کو سمجھ لے اور اس کے بعد پھر دوسرے امور کی طرف اس کی توجہ پھرے گی۔پس اس طبعی تقاضا کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کریم کے نزول کی ترتیب اور ہے اور اس کے جمع کی ترتیب اور۔نزول کی ترتیب پہلے زمانہ کے لوگوں کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر ہے اور جمع کی ترتیب بعد میں آنے والوں کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر ہے۔اور یہ بات خود ایک ایسی بیّن فضیلت ہے جو صاحب بصیرت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔