تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 133
اپنے زور سے اسے حاصل نہیں کرسکتا۔پس جو شخص خدا تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ظاہری دولت اور جتھے پر گھمنڈ نہ کرے۔کہ یہ چیزیں خدا کے فضل سے حاصل ہونے والی چیزوں کے مقابلہ میں کچھ بھی ہستی نہیں رکھتیں۔بلکہ اس کا فخر اور اس کی خوشی انہی امور کے متعلق ہونی چاہیے جن کی صحت اور جن کے فائدے کا خدا تعالیٰ خود ضامن ہو۔ھُوَ کی ضمیر کا مرجع هُوَ خَيْرٌ میں ھُوَ کی ضمیر فضل کی طرف بھی جاسکتی ہے اور فضل اور رحمت کے حاصل ہونے کے متعلق بھی ہوسکتی ہے اور اس سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے۔جس کا اوپر ذکر ہوا ہے اور مراد یہ ہے کہ تم اپنے اموال اور جتھوں پر گھمنڈ کرکے پوچھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح کامیابی ہوگی۔مگر یاد رکھو کہ جو ہتھیار اسے ملا ہے یعنی قرآن کریم وہ تمہارے سب اموال و اولاد پر بھاری ہے۔اور ان سے بہتر ہے اور اس کتاب کے مقابلہ پر تمہاری دولت و حشمت کچھ بھی نہ کرسکے گی یہی جیتے گا۔سچائی انجام کار مادیات پر غالب آجاتی ہے کیا ہی عظیم الشان سچائی بتائی ہے کہ سچائیاں مادیات پر غالب ہوتی ہیں۔ایک وقت میں سچائی سب سے کمزور نظر آتی ہے لیکن آخر وہ سب چیزوں پر غالب ہو کر رہتی ہے۔اگر لوگ اس نکتہ کو سمجھیں تو مادی اشیاء کو صداقتوں پر کبھی ترجیح نہ دیں۔قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ تو( ان سے) کہہ( کہ) کیا تم نے اس بات کو( بھی کبھی سوچ کر) دیکھا ہے کہ اللہ( تعالیٰ) نے تمہارے لئے مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ (آسمان سے) رزق اتارا پھر تم نے اس میں سے (کچھ) حرام اور( کچھ) حلال ٹھہرادیا۔تو (ان سے) کہہ (کہ) تَفْتَرُوْنَ۰۰۶۰ کیا اللہ( تعالیٰ) نے تمہیں (اس بات کی )اجازت دی ہے یا تم اللہ (تعالیٰ) پر افتراء کرتے ہو۔حلّ لُغَات۔مَا استفہامیہ أَرَءَ یْتُمْ کے بعد ما مصدر یہ یا موصولہ کا آنا اور اس کے بعد پھر استفہام کا آنا بتاتا ہے کہ اس جگہ أَرَءَ یْتُمْ بمعنی اَخْبِرُوْنِیْ نہیں ہے۔بلکہ اپنے اصلی معنی استفہامی میں ہے۔