تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 132
حاصل کرنے کے خواہش مند ہوں گے۔یہ چار امور ایسے ہیں کہ اگر ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام کی ترقی بلکہ کل سچے دینوں کی ترقی انہی کے ذریعہ سے ہوئی ہے جو بہت ہی حساس لوگ تھے انہوں نے محض اس کی مخلصانہ تعلیم کو دیکھ کر ہی فائدہ اٹھا لیا۔جو ان سے سخت تھے انہوں نے عقلی دلائل سے تسلی پائی۔جو ان سے بھی سخت تھے انہوں نے مسلمانوں کی اخلاقی حالت میں تبدیلی اور تعلق باللہ کی حالت کو دیکھ کر نصیحت حاصل کی جو اور بھی سخت تھے انہوں نے اسلام کی ترقیات کو دیکھ کر اس کی سچائی کا یقین کیا اور فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے۔لِمَا فِي الصُّدُوْرِ۔اس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خیالات تو دماغ میں پیدا ہوتے ہیں۔پس سینوں والی بات یا دل کی بات کو اچھا کرنے کے کیا معنی ہوئے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ روحانی امور دل کے ساتھ ایک باریک تعلق رکھتے ہیں اور تمام روحانی لوگوں کا تجربہ ہے کہ دل کا روحانیات کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔جس طرح روح کا علم مادیات سے معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کا تعلق جو جسم سے ہے وہ دریافت نہیں ہوسکتا اسی طرح یہ بات بھی مادی قواعد سے دریافت نہیں ہوسکتی کہ دل سے روح کا کیا تعلق ہے۔پس اس معاملہ میں ہمیں تجربہ کاروں کے مشاہدہ پر یقین کرنا پڑے گا جو بالاتفاق اس امر کے گواہ ہیں کہ دل کا تعلق روحانی امور سے ضرور ہے۔اور خیالات کا دماغ میں پیدا ہونا اس کے مخالف نہیں کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ خون کے بعض تغیرات خیالات کے اچھے ہونے یا برے ہونے پر خاص اثر رکھتے ہوں اور خون کا تعلق چونکہ دل سے ہے اس طرح دل بھی ایک مخفی اثر خیالات پر ڈالتا ہوا ور یہ تو ظاہر ہے کہ خوراک کا اثر انسان کے خیالات پر پڑتا ہے۔اور وہ اثر خون کے سوا اور کسی طرح نہیں پڑ سکتا۔پس ان معنوں میں دل بھی خیالات کا ایک منبع کہلا سکتا ہے۔چنانچہ اس مضمون کو قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ بیان بھی کیا ہے اور غذا کا نیک اعمال کے ساتھ گہرا تعلق بتایا ہے۔چنانچہ فرمایا يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا (المؤمنون:۵۲)یعنی پاکیزہ خوراک اعمال صالحہ کی توفیق کا ایک ذریعہ ہے۔قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ تو( ان سے) کہہ (کہ یہ سب کچھ) اللہ (تعالیٰ) کے فضل سے اور اس کی رحمت سے (وابستہ )ہے پس اسی پر انہیں خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ۰۰۵۹ خوشی منا نا چاہیےجو( مال) وہ جمع کر رہے ہیں اس سے یہ( نعمت کہیں) زیادہ بہتر ہے۔تفسیر۔یعنی یہ نعمت جو اوپر بیان ہوئی ہے صرف خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوسکتی ہے کوئی انسان