تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 6
پیش کردہ عقائد کی برتری اور اس کی تعلیم کی خوبی اور اس کے وسیع عرفان اور اس کی تعلیم کی حکمتوں اور اس کے غیر معمولی نیک اثر کو سامنے رکھ کر لوگوں کو اس کے قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے مگر سورہ یونس اور اس کے ساتھ کی سورتوں میں دلائل عقلیہ اور منہاج نبوت پر اور پہلے انبیاء کے دعووں اور ان کے حالات کی طرف توجہ دلا کر نبوت اور اس کی ضرورت، مذہب اور اس کی اہمیت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اس کے اغراض کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔پس سلسلہ مضمون ایک ہی ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ پہلے سلسلے میں ان پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یا اس سے پہلے دیگر انبیاء کی طرف سے کروائی گئی تھیں اور وقت پر پوری ہوئیں۔اور دوسرے سلسلہ میں اصولی رنگ میں اور منہاج نبوت کے ذریعہ سے اسلام کو پیش کیا گیا ہے۔بعض مدنی سورتیں بعض مکی سورتوں سے پہلے کیوں رکھی گئیںہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پہلا سلسلہ سورتوں کا مدنی ہے۔ان میں سے صرف دو مکی ہیں۔یعنی سورہ انعام اور سورۂ اعراف۔لیکن یہ سورتیں ہجرت کے بالکل قریب نازل ہوئی ہیں۔اور اس وجہ سے مدنی سورتوں کی طرح ہی سمجھنی چاہئیں۔سورہ یونس اور اس کے ساتھ کی سورتیں سب کی سب مکی ہیں۔اور ان میں سے بعض وسطی زمانہ کی اور بعض ہجرت کے قریب کی ہیں۔پس یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں ان مدنی سورتوں کو پہلے کیوں رکھا گیا ہے۔اور مکی سورتوں کو بعد میں کیوں رکھا گیا ہے؟ اگر پہلی سورتوں کو مضمون کے لحاظ سے پہلے ہی پڑھنا مناسب تھا تو کیوں خدا تعالیٰ نے ان کو پہلے نازل نہ کیا ؟اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک کام حکمت سے پُر ہوتا ہے۔چونکہ نبی کے پہلے مخاطبوں اور بعد میں آنے والوں کی ضرورتوں میں فرق ہوتا ہے۔اس لئے قرآن کریم کے نزول کی ترتیب اور تحریر کی ترتیب میں فرق رکھا گیا ہے۔نزول کی ترتیب ان لوگوں کے حالات کو مدنظر رکھ کر ہے جو قرآن کریم کے پہلے مخاطب تھے اور جمع کی ترتیب ان لوگوں کو مدنظر رکھ کر ہے جو بعد میں آنے والے تھے۔اب یہ امر ظاہر ہے کہ جب کوئی تشریعی نبی دعویٰ کرے گا تو اس وقت اس کی تعلیم یا اس کی پیش گوئیوں کا پورا ہونا زیربحث نہیں ہوگا۔کیونکہ نہ تو شروع میں تعلیم مکمل صورت میں لوگوں کے سامنے ہو گی نہ ابھی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آیا ہوگا۔پس شروع زمانہ میں لوگ ان امور پر بحث نہیں کریں گے۔بلکہ سب سے پہلے اس کے ساتھ بحث اس امر پر ہوگی کہ وہ کیسا خدا ہے جس کی طرف سے ہونے کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔اس کی کیا صفات ہیں۔اس کی کیا طاقتیں ہیں۔کیا الہام کوئی حقیقت رکھتا ہے۔انسان کو الہام کی کیا ضرورت ہے؟ اور اس قسم کے اور سوالات ہوں گے جن کی طرف لوگ توجہ کریں گے۔پس کلام الٰہی لازماً انہی امور