تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 5
والوں کے ذہن میں خلش باقی نہ رہ جائے۔پہلی سورتوں سے تعلق یاد رکھنا چاہیے کہ سورۂ یونس کو پہلی سورۃ کے مضمون سے تین تعلق ہیں۔اول اس سورۃ کا تسلسل پہلی سورۃ سے جو یہ ہے کہ سورہ توبہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے دو مضامین کا ذکر فرمایا تھا۔(۱) وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ يَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ(التوبۃ :۱۲۷)یعنی جب کوئی سورۃ اترتی ہے تو ان (منافقوں) میں سے بعض دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں (یہ اشارہ کرتے ہوئے) کہ کیا کوئی تمہیں دیکھتا تو نہیں پھر اٹھ کر (مجلس سے) چلے جاتے ہیں۔خدا بھی ان کے دلوں کو حق سے محروم کر دے گا۔(۲)لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ (التوبۃ:۱۲۸) یقیناً تمہارے پاس تمہی میں سے ایک ایسا رسول آچکا ہے جس پر تمہارا مصائب میں مبتلا ہونا شاق گزرتا ہے۔غرض سورہ توبہ کے اختتام پر پہلے کتاب کے نزول اور اس کی تکذیب کا اور پھر رسول کی آمد اور اس سے فائدہ اٹھانے کا ذکر تھا۔اسی طرح سورہ یونس کے ابتداء میں انہی دونو امور کا اس ترتیب سے ذکر شروع کیا ہے کہ پہلے کتاب کی اہمیت بتائی کہ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ(یونس:۲) اور پھر رسول کا ذکر فرمایااَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ(یونس:۳)۔دوسرا تعلق سورہ یونس کا سورہ توبہ سے یہ ہے کہ سورہ یونس کا مضمون پورے طور پر سورہ توبہ کے مضمون کو مکمل کرتا ہے۔اور وہ اس طرح کہ سورۂ توبہ میں جو دراصل الگ سورۃ نہیں ہے بلکہ سورۂ انفال کا حصہ ہے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اب اسلام کی ترقی کا وقت آ گیا ہے اور خدا تعالیٰ کے وعدے بڑے زور شور سے پورے ہونے لگے ہیں پس چاہیے کہ لوگ اپنے دلوں کی صفائی کرکے خدا تعالیٰ کے حضور میں جھک جائیں۔تا ان کی توبہ قبول ہو۔چونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں کثرت گناہ کی وجہ سے یہ شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید ہماری توبہ بھی اب قبول نہ ہوسکے۔اس لئے سورۂ یونس میں اس مضمون پر بحث کی کہ اللہ تعالیٰ کا رحم غالب ہے۔وہ ہر صورت میں بندے پر رحم کرتا ہے۔ہاں !اسے کامل توبہ کا نمونہ دکھانا چاہیے۔تیسرا تعلق سورہ یونس کو پہلی تمام سورتوں سے یہ ہے کہ سورہ بقرہ سے لے کر سورہ توبہ تک آٹھ یا ہماری تحقیق کے مطابق سات سورتیں ہیں (سورۂ توبہ الگ سورۃ نہیں بلکہ سورہ انفال کا حصہ ہے اور بوجہ عظمت مضمون کے الگ لکھوائی گئی ہے) ان سورتوں کا مضمون ایک قسم کا ہے۔اس کے بعد سورۂ یونس سے لے کر سورۂ کہف تک ایک سلسلہ مضمون کا ہے اور یہ دونوں سلسلے مضمون کے ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔پہلی آٹھ سورتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو پیش کرکے اور آپ کے کام کو دکھا کر اسلام کی صداقت کو ثابت کیا گیا ہے۔اور اسلام کے