تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 4

قدر آیات ہوتی تھیں موجودہ قرآن میں اس قدر لکھی ہیں۔معلوم ہوا کہ اس قدر آیات کم ہو گئی ہیں۔یا کم والی روایت کو لے کر کہہ دیا کہ موجودہ قرآن میں اس قدر آیات ہیں۔پہلے بزرگوں نے اس قدر لکھی ہیں معلوم ہوا کچھ آیتیں زائد ہو گئی ہیں۔حالانکہ یہ صریح دھوکا اور غلط بیانی ہے۔جو لوگ آیتوں کی تعداد زیادہ بتاتے ہیں وہ یہ نہیں کہتے کہ مضمون موجودہ مضمون سے زیادہ تھا بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں حصہ آیت کو جو ایک آیت قرار دیا گیا ہے اسے ایک آیت نہ سمجھو۔اور جو کم کہتے ہیں وہ بھی اسی بنا پر کہتے ہیں۔کہ فلاں فلاں آیتوں کو جو تم دو آیتیں بناتے ہو ان کو دو آیتیں نہ سمجھو۔ایک ہی آیت سمجھو لیکن وہ یہ ہرگز نہیں کہتے کہ اصل میں قرآن کریم کا مضمون تھوڑا تھا اور اب زیادہ کر دیا گیا ہے۔مثلاً سورہ فاتحہ ہے۔بعض اسے آٹھ آیتیں قرار دیتے ہیں اور بعض سات۔آٹھ کہنے والے کوئی اور آیت شامل نہیں کرتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ بسم اللہ الگ آیت ہے۔اور الحمدللہ سے سات آیتیں گناتے ہیں۔اور بسم اللہ کو ملا کر آٹھ قرار دیتے ہیں۔بعض اور ہیں جو بسم اللہ کو پوری آیت نہیں قرار دیتے بلکہ الحمدللہ رب العالمین سے ملا کر ایک آیت قرار دیتے ہیں۔پس باوجود آیتوں کی تعداد میں اختلاف کے مسلمانوں میں قرآن کریم کے مضمون کے متعلق اختلاف نہیں ہے۔اور یہ کوئی بھی نہیںکہتا کہ موجودہ قرآن کریم میں کوئی ٹکڑا ایسا ہے جو قرآن کریم کا جزو نہیں ہے۔اور کسی نے ملا دیا ہے۔پس تعداد کا اختلاف کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔یہ ایک ذوقی اختلاف ہےاور اس سے دشمنانِ اسلام کا فائدہ اٹھانا خود ان کی اپنی بے وقوفی پر دلالت کرتا ہے۔ترتیب سُوَر اور ان کا باہم تعلق مضمون دیگر مطالب کے بیان کرنے سے پہلے میں اس تعلق کی نسبت کچھ کہنا چاہتا ہوں جو سورۂ یونس اور اس کے بعد کی سورتوں کو ان سے پہلی سورتوں کے ساتھ ہے۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے قرآن کریم میں نہ صرف ہر آیت کو دوسری آیت کے مضمون کے ساتھ رابطہ ہے بلکہ ہر سورہ اپنے سے پہلی اور پچھلی سورتوں کے مضمون سے وابستہ ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کمال ہے کہ بعض سورتوں کے مجموعوں کا دوسری سورتوں کے مجموعوں سے بھی تعلق ہے اور اس طرح ایک زبردست اتصال ہے جو سورہ فاتحہ کی بسم اللہ سے لے کر سورۃ الناس کی آیت مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک پایا جاتا ہے۔دشمن کہتا ہے کہ قرآن کریم بے ترتیب ہے۔لیکن حق یہ ہے کہ نہ صرف قرآن کریم کے مضمون میں ایک مکمل ترتیب ہے بلکہ قرآن کریم کی سورتیں ایک سے زیادہ طریق سے باہم وابستہ ہیں۔اور ان کی ترتیب کو دیکھ کر قرآن کریم کے معجزانہ کلام ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں رہ جاتا۔اس مضمون کی طرف اس جگہ توجہ دلانے کی یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے پہلے دس پاروں کے نوٹ بعد میں شائع کرنے پڑے ہیں۔پس ضرورت تھی کہ اس جگہ اس مضمون کے متعلق ایک مختصر نوٹ دے دیا جاتا تاکہ پڑھنے