تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 111

کبھی پورے قرآن کریم کی مثال لانے کو کہا ہے۔کبھی دس سورتوں کی مثال لانے کو اور کبھی ایک سورۃ کی مثال لانے کو۔مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں۔اس سورۃکی تحدی میں سورۃسے مراد ایک دلیل ہے حقیقت یہ ہے کہ ان سب جگہوں پر الگ الگ مضمون بیان ہوا ہے۔اور مختلف طریق پر مثال لانے کا مطالبہ کیا ہے۔مثلاً اس آیت میں جو یہ دعویٰ ہے کہ فَأْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ اس سے مراد سارا قرآن کریم نہیں ہے بلکہ مراد اوپر کی آیت ہے اور سورت سے مراد اس جگہ علامت ہے یعنی دلیل اور یہ پوچھا گیا ہے کہ جو دلیلیں ہم نے اوپر دی ہیں اگر یہ کلام انسانی کلام ہے تو کسی انسانی کلام میں وہ پانچوں دلیلیں جمع کرکے دکھانا تو بڑی بات ہے تم ایسا انسانی کلام ہی پیش کر دو جس میں ان میں سے ایک دلیل ہی پائی جاتی ہو۔مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اوپر کی بیان کردہ دلیلوں اور صداقت کی علامتوں میں سے ایک علامت بھی کسی انسانی کلام میں نہیں پائی جاسکتی۔اور یہ دعویٰ قرآن کریم کا ایسا ہے کہ اس کا جواب نہ اب تک کوئی دے سکا ہے اور نہ آئندہ دے سکے گا۔اب بھی یہ تحدی موجود ہے اس زمانہ میں کوئی شخص ان پانچ علامتوں والا کلام تو الگ رہا ان میں سے ایک علامت والا کلام ہی بنا کر قرآن کریم کے مقابل پیش کر دے۔تو ہم قرآن کریم کے دعوے کو باطل سمجھ لیں گے۔مگر زمین و آسمان ٹل جائیں کوئی شخص ایسا نہیں کرسکتا۔یہ پانچوں علامتیں صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے کلام میں پائی جاسکتی ہیں۔کوئی بندہ ان میں خدا تعالیٰ کی نقل نہیں کر سکتا۔لفظ سورۃ سے مراد پوری سورۃ لینے سے معنوں میں وسعت نہیں رہتی اگر سورۃ سے مراد سورۃ ہی لی جائے تب بھی اس سے مراد یہ ہوگی کہ جس قسم کا کلام ہم نے اوپر پیش کیا ہے ایسی کوئی سورۃ بنا کر پیش کرو۔لیکن اس صورت میں معنوں میں وہ وسعت نہیں رہتی۔جو اون معنوں میں ہے کیوں کہ ان معنوں میں ان مطالب کا پوری سورۃ کا مطالبہ کیا ہے اور پہلے معنوں میں مذکورہ بالا دلیلوں میں سے کسی ایک دلیل کا۔باقی مقامات جن میں اس دعویٰ کو دوسرے الفاظ میں پیش کیا گیا ہے ان کے متعلق انشاء اللہ تعالیٰ سورہ ہود میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ کے جملہ سے اس مضمون کو اور بھی زور دار کردیا ہے کہ خود ہی زور نہ لگاؤ بلکہ اپنے لیڈروں اور معبودان باطلہ کو بھی بلا لو اور پھر دیکھو کہ تم کیسے ناکام رہتے ہو۔تا دنیا پر بھی یہ ثابت ہو جائے کہ جس کتاب کو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہو اسے تم اور تمہارے لیڈر اور تمہارے معبود بھی مل کر نہیں بناسکتے۔