تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 3
سُوْرَۃُ یُوْنُسَ مَکِّیَّۃٌ وَھِیَ مِائَۃٌ وَّتِسْعُ اٰیاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَاَحَدَ عَشَرَ رَکُوْعًا سورۃ یونس۔یہ سورۃ مکی ہے۔اور بسم اللہ سمیت اس کی ایک سو دس آیات ہیں اور گیارہ رکوع ہیں یہ سورۃ مکّی ہے (۱) یہ سورۃ مکّی ہے۔گو بعض لوگوں نے اس کی بعض آیتوں کو مدنی قرار دیا ہے مگراصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی رائے واقعات پر مبنی نہیں بلکہ صرف مضامین پر قیاس کرکے ہے اور اس قسم کی رائے یقینی نہیں ہوتی۔وجہ تسمیہ (ب) اس سورۃ کا نام یونس ہے اور اس کی وجہ یہ نہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نےخیال کیا ہے کہ اس میں حضرت یونس کا ذکر ہے۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورۃ کا مضمون یونس کے واقعہ پر مبنی ہے۔قرآن کریم میں جو بعض انبیاء یا اشیاء کے ناموں پر سورتوں کا نام ہوتا ہے تو بلاوجہ نہیں ہوتا۔بلکہ یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اس سورۃ کا مضمون اس خاص شخص کے مذکور واقعہ پر یا اس چیز کے حالات پر مبنی ہے جس کے نام پر اس کا نام رکھا گیا ہے۔شمار آیات و رکوعات (ج) سورتوں کے شروع میں جو رکوعوں کی یا آیتوں کی تعداد دی جاتی ہے اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ رکوع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنائے ہیں یا یہ کہ آیتوں کی تعداد آپ نے بتائی ہے۔رکوع بہت بعد میں بنائے گئے ہیں اور آیات کی گنتی کے متعلق بھی اختلاف ہے اور اس کی بنیاد نحوی قواعد پر ہے۔کسی شخص نے کسی مقام پر مضمون کو مکمل قرار دے لیا ہے اور کسی نے کسی جگہ پر۔اور اس کی وجہ سے آیتوں کی تعداد میں ائمہ میں اختلاف ہو گیا ہے اور یہ اختلاف تین قسم کا ہے۔بعض نے سورۃ کی آیتوں کی تعداد میں تو اتفاق کیا ہے مگر آیتوں کی حد بندی میں اختلاف کیا ہے یعنی جسے ایک نے دو آیتیں قرار دیا ہے دوسرے نے ایک قرار دے لیا ہے اور جسے دوسرے نے دو قرار دیا ہے اسے اس نے ایک قرار دے لیا ہے۔دوسرا اختلاف یہ ہے کہ بعض نے بعض سورتوں کی آیتوں کی معروف تعداد سے کم تعداد بتائی ہے۔اور تیسرا یہ اختلاف ہے کہ بعض جگہ بعض علماء نے آیتوں کی معروف تعداد سے زیادہ تعداد بتائی ہے۔اس وجہ سے قرآن کریم کی کل آیات کے متعلق بھی اختلاف ہو گیا ہے۔کوئی زیادہ آیتیں بتاتا ہے کوئی کم۔تعداد آیات پر مسیحی مصنّفین کا اعتراض حقیقت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یا لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے بہت سے مسیحی مصنفوں نے یا دوسرے دشمنانِ اسلام نے اس امر کو قرآن کریم کے غیر محفوظ ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔مثلاً جنہوں نے آیتوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے ان کا حوالہ دے کر وہ کہہ دیتے ہیں کہ دیکھو پہلے اس