تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 94

زَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ کے معنی زَيَّلْنَا بَيْنَهُمْسے بھی اس جگہ یہی مراد ہے کہ اس موقع پر ثابت ہو جائے گا کہ یہ حضرات ان مشرکوں سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھتے تھے۔اور ان کی طرف منسوب ہونے والی جماعتیں جو شرک میں مبتلا تھیں جھوٹ سے کام لے رہی تھیں۔پہلے اپنی اپنی جگہ کھڑا ہونے کا حکم بتایا ہے پھر تفرقہ کا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے مشرکوں کو اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا موقع دیا جائے گا۔جب ان کا دعویٰ بے دلیل رہے گا تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جن کو معبود بنایا جاتا تھا بری قرار دے کر الگ کر دے گا اور اس وقت وہ لوگ خوشی سے اپنی براء ت کا اظہار کریں گے۔اس جگہ شرک کے بانی معبودان باطلہ کا ذکر نہ ہونے کی وجہ اگر یہ سوال ہو کہ اس جگہ معبودوں سے مراد اگر وہ ہیں جو عبادت سے بے خبر ہیں تو ان معبودوں کا ذکر کیوں نہیں کیا جو خود شرک کے بانی ہوتے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگ خود مشرک ہیں۔اور اس وجہ سے مشرکین میں ان کا ذکر آگیا ہے۔اس جگہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ رسول کریمؐ کے مخالفین جو شرک کے عقیدہ کو اس دلیل کے ذریعہ سے ثابت کرتے ہیں کہ پہلے انبیاء اور اولیاء اس کی تائید میں ہیں درست نہیں۔اور اس کا رد یوں کیا ہے کہ ان کی تائید کا ثبوت تمہارے پاس کوئی نہیں ہے۔وہ لوگ ہرگز اس کی تائید میں نہیں ہیں۔یہ تمہارے اپنے منہ کے دعوے ہیں۔فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ پس تمہارے درمیان اور ہمارے درمیان (خود) اللہ (تعالیٰ) کافی گواہ ہے۔عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ۰۰۳۰ ہم تمہاری پرستش سےیقیناً بے خبر تھے۔تفسیر۔یہاں اللہ تعالیٰ نے کیا عجیب نقشہ کھینچا ہے۔فرماتا ہے ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہم سب کو اکٹھا کریں گے اور شرکاء اور مشرکین کو کہیں گے کہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔وفات مسیح یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام قیامت تک ان لوگوں کے افعال سے جو انہیں خدا کا شریک قرار دیتے ہیں ناواقف ہوں گے لیکن اگر ان کو زندہ تسلیم کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ وہ اس دنیا میں دوبارہ آئیں گے تو کس طرح ممکن ہے کہ وہ قیامت