تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 93
خود نہیں اٹھ سکتا۔بیرونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن یہ لوگ چونکہ خدا تعالیٰ کو بھی ناراض کرلیتے ہیں اس لئے بیرونی مدد سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔چوتھے یہ بتایا کہ بدی آخر ظاہر ہو کر رہتی ہے اور ظلم چھپ نہیں سکتا۔پس دنیا بھی ان کی کمزوریوں سے واقف ہوجاتی ہے۔نیز اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے مظالم اور بدیوں سے نہیں بچتے تو کم سے کم اس امر کا ہی خیال کریں کہ یہ اپنی ذلت کا سامان پیدا کررہے ہیں۔وَ يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا اور( اے لوگو!اس دن کو یاد کرو)جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔پھر جنہوں نے شرک کیا (ہوگا) انہیں ہم مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ وَ قَالَ کہیں گے (کہ پرے ہٹ کر) اپنی جگہ پر( کھڑے رہو)تم بھی اور تمہارے(بنائے ہوئے خدائی کے )حصہ دار شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۰۰۲۹ (بھی )پھر ہم ان میں آپس میں (بھی) جدائی ڈال دیں گے اور ان کے (بنائے ہوئے خدا کے) شریک(انہیں ) کہیں گے (کہ) تم ہماری عبادت (تو ہر گز )نہیں کرتے تھے۔َ حلّ لُغَات۔مَکَانَکَ مَکَانَکَ یہ محاورہ ہے۔اس کے معنی ہیں اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔زَیَّلَہٗ زَیَّلَہٗ فَرَّقَہٗ پراگندہ کر دیا۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان اجتماع کا ذکر فرمایا ہے جو ایک دن سب صداقتوں کے ظاہر کرنے کا موجب ہوگا۔مگر جس کا سمجھنا اس دنیا میں بھی عقل خداداد سے آسان اور سہل ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ اس آیت میں ان شرکاء کا ذکر ہے جنہیں لوگوں نے زبردستی ان کے علم کے بغیر خدا تعالیٰ کا شریک مقرر کر چھوڑا ہے جیسے ملائکہ یا حضرت کرشن۔رامچندر، عیسیٰ علیہ السلام اور امام حسن اور امام حسین سید عبدالقادر جیلانی وغیرھم رضی اللہ عنہم۔کیونکہ اگلی آیت سے ثابت ہے کہ وہ شرکاء خدا تعالیٰ کو گواہ کے طور پر پیش کریں گے۔کہ انہیں اس شریک بنانے کے فعل سے بالکل بے خبری تھی۔