تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 92

وَ الَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ اور جنہوں نے بدیاں کی ہوں گی (ان کے لئے) بدی کا بدلہ اس (بدی) کے برابر ہو گا اور انہیں ذلت پونہچے گی۔ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِيَتْ اور کوئی بھی انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا نہیں ہو گا (اور ان کی حالت ایسی ہو گی) وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ گویا ان کے مونہوں پر رات کے کئی (کئی) تاریک حصے ڈال دیئے گئے ہیں۔یہ (لوگ) النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۸ آگ (میں رہنے) والے ہیں وہ اس میں رہا کریں گے۔حلّ لُغَات۔عَاصِمٌ عَاصِمٌاسم فاعل ہے عَصَمَ سے۔عَصَمَ الشَّیْءَ۔مَنَعَہٗ روک کر محفوظ کر دیا۔حَفِظَہٗ حفاظت کرکے بچا لیا۔قِطَعٌ اَلْقِطَعُ اَلْقِطْعَۃُ مِنَ الَّیْلِ رات کا ایک حصہ اور قِطْعَۃٌ کی جمع بھی ہے جس کے معنی ہیں اَلْحِصَّةُ مِنَ الشَّیْ ءِکسی چیز کا کوئی ایک حصہ۔خَلَدَ خَالِدُوْنَ خَلَدَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے خَلَدَ بِالْمَکَانِ وَاِلَی الْمَکَانِ۔اَقَامَ رہ پڑا۔(اقرب) تفسیر۔بدی کی سزا بدی سے زیادہ نہیں ملے گی ایک تو اس جگہ یہ بتایا ہے کہ گو نیکی کی جزاء عمل سے زیادہ ملتی ہے۔مگر بدی کی جزا اللہ تعالیٰ عمل سے زائد نہیں دیتا۔بلکہ اس کے مطابق دیتا ہے۔خدا کے قانون توڑنے کا نتیجہ دوسرے یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون توڑنے والے اعلیٰ ہمتوں سے محروم ہوتے ہیں۔اور صرف نقال رہ جاتے ہیں۔خود ان میں اقدام اور ایجاد کی طاقت نہیں رہتی۔ان کے نزدیک تمام ترقیات کی جڑھ دوسروں کی نقل ہوتی ہے۔ان کی امیدوں میں کبھی اس خیال کو جگہ نہیں ملتی کہ وہ دنیا کی راہ نمائی کریں اور لوگ ان کے پیچھے چلیں۔ایسا گر اہوا بغیر بیرونی دستگیری کے اٹھ نہیں سکتا تیسرے یہ بتایا ہے کہ ایسی گری ہوئی حالت سے انسان