تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 90
مکتسب نہیں بلکہ آپ ہی آپ ہے۔غرض جس طرح ایک سائینسدان ان اوپر کی باتوں سے حیران ہوگا وہ بچہ بھی اگر اس کو یہ بات سمجھائی جا سکتی کہ ایک دن وہ اپنی ماں کی گود سے اُتر جائےگا اور اس کی رغبت اپنی ماں سے کم ہو جائےگی حیران ہو تا۔اگر سات آٹھ سال کے بچہ کو یہ بات کہہ دی جائے کہ بڑا ہو کر تُو ایک عورت سے شادی کرے گا اور اس سے تیری رغبت زیادہ ہو جائےگی اور تو اپنی ماں کو چھوڑ دےگا تو وہ کہے گا کہ میں ایسا پاگل تو نہیں ہوں کہ اپنی ماں کو چھوڑدوں۔وہ اور ہوںگے جو ایسا کرتے ہیں میں تو کبھی اس طرح نہیں کروںگا۔پس یہ ایک فطرتی چیز ہے کہ انسان مختلف وقتوں میں مختلف چیزوں سے رغبت کرتا ہے اور جس وقت وہ اس چیز سے رغبت کر رہا ہوتاہے اس وقت وہ یہ وہم بھی نہیں کر سکتا کہ ایک دن میں اس چیز کو چھوڑ دوںگا۔اور جب بڑا ہوتا ہے تو پھر اس بات کا اسے خیال بھی نہیں آتا کہ کسی وقت میں اس چیز سے رغبت رکھتا تھا اور اس کے بغیر اپنی زندگی حرام سمجھتا تھا۔یہی معنے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّااللّٰہُ کے ہیں کہ پہلے انسان غیر اللہ کی طرف توجہ کرتا ہے جو بظاہر غیر اللہ کا راستہ ہے مگر اللہ تک پہنچنے کا اصل راستہ یہی ہے۔اگر بچہ کے اندر پستان کی محبت نہ ہوتی تو اُس کے اندر ماں کی محبت بھی کبھی نہ ہوتی۔اگر بچہ کو ماں سے محبت نہ ہوتی تو اس کو باپ سے بھی کبھی محبت نہ ہوتی۔اگر بچہ کو باپ سے محبت نہ ہوتی تو اس کو بھائی اور بہنوں سے بھی کبھی محبت نہ ہوتی اگر بچہ کو بھائی بہنوں سے محبت نہ ہوتی تو اس کو دوستوں اور ساتھ کھیلنے والوں سے بھی کبھی محبت نہ ہوتی۔اور اگر اس کو اپنے اپنے وقت پر ان اشیاء سے رغبت نہ ہوتی تو سچی بات یہ ہے کہ وہ خدا کو بھی اپنے وقت پر نہ پا سکتا۔بات یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت میں جو خلا محسوس کرتا ہے اُس کو پُر کرنے کے لئے وہ مختلف وقتوں میں مختلف چیزوں سے رغبت کرتا ہے کہ شاید یہ چیز میری ضرورت کو پورا کردے۔جب اُس چیز سے اس کی تسلّی نہیں ہوتی تو پھر دوسری چیز سے رغبت کرتا ہے کہ شاید اس چیز سے میری ضرورت پوری ہو جائے۔پھرجب اس چیز سے بھی اس کا خلا پُر نہیں ہوتا تو تیسری چیز سے رغبت کرتا ہے کہ شاید یہاں میرا مقصد مل جائے جب اس سے بھی اسے طمانیت حاصل نہیں ہوتی تو پھر چوتھی چیز سے رغبت کرتا ہے کہ شاید یہی میرا مقصود ہو۔یہاں تک کہ ایک ایک کر کے ان تمام چیزوں کو چھوڑتا چلا جاتا ہے اور آخر خداتک جا پہنچتا ہے اور جب اس کو اللہ مل جاتا ہے تو اس کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور پھر اس مقام سے نہیں ہلتا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى (النجم : ۴۳) کہ ان تمام چیزوں میں سے جو غیر اللہ ہیں گذر کر ایک دن انسان اپنی منزل مقصود یعنی خدا تک جاپہنچتا ہے اور وہ فوراً ہی اس منزل پر نہیں پہنچ جاتا بلکہ راستہ میں کئی چیزیں آتی ہیں جن کو بچپن کی وجہ سے خدا سمجھ لیتا ہے مگر آہستہ آہستہ اُن سب کو چھوڑتا چلا جاتا ہے اور ہر چیز اس کی انگلی پکڑ کر اُس کو خدا کے قریب کر دیتی ہے۔