تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 81

حالانکہ وہ خود اس فعل کا مرتکب ہوتاہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اُس کی فطرت اسے بُرا قرار دیتی ہے۔اسی طرح یہاں لعنت کرنے سے یہ مراد ہے کہ کفار کے افعال پر ہر ایک شخص خواہ نیک ہو خواہ بد فطرتی طور پر لعنت کرتا ہے بلکہ ایک مجرم خواہ اپنی ذات کو بُرا نہ کہے مگر جرم کو ضرور بُرا کہے گا اور اسی کا نام لعنت ہے۔خدا اور ملائکہ صفت انسان تو علی الاعلان لعنت کرتے ہیں لیکن باقی دنیا فطری اور اصولی طور پر لعنت کرتی ہے۔جیسے کوئی قوم جھوٹ کو اچھا نہیں سمجھتی۔کوئی قوم غیبت چوری اور قتل وغیر ہ کو اچھا نہیں سمجھتی۔ہاں انفرادی طور پر اگر کوئی ان کا ارتکاب کرے تو خود اس کا اپنا نفس اسے شرمندہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے بے ایمانی کا ارتکاب کیاہے۔اس جگہ اسی قسم کی لعنت مراد ہے کہ خواہ اپنے فعل کو وہ بُرا نہ کہیں مگر دوسروں کے اُسی قسم کے فعل کو دیکھ کر وہ ضرور بُرا کہتے ہیں چنانچہ کسی سے پوچھ کر دیکھ لو وہ یہی کہے گا کہ جھوٹ بُرا ہے غیبت بُری ہے چوری بُری ہے قتل بُرا ہے ظلم بُرا ہےحالانکہ بعض دفعہ وہ خود ان جرائم کا مرتکب ہوتا ہے اسی طرح کوئی قوم بحیثیت قوم اندھیرے میں چھپ کر کسی کو مار ڈالنے کو اچھا نہیں سمجھتی۔کوئی قوم بحیثیت قوم چوری کو اچھا فعل نہیں سمجھتی۔کوئی قوم بحیثیت قوم غیبت کو اچھا خیال نہیں کرتی۔اسی طرح وہ افراد جو اس قسم کے کاموں کو کرتے وقت انہیں اچھا خیال کرتے ہیں وہ بھی دوسرے موقعہ پر انہیں بُرا اور ناجائز سمجھتے ہیں۔غرض یہ لعنت ایسی ہے جو کہیں نہیں مٹتی کیونکہ انسانی فطر ت اس کی ہمنوا ہوتی ہے۔پھر فرماتا ہے خٰلِدِیْنَ فِیْھَا یہ قانون ایسا ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔کئی فلسفے اور تہذیبیں بدل گئیں مگر یورپ آج بھی یہی کہتا ہے کہ جھوٹ بُرا ہے ظلم بُرا ہے چوری بُری ہے غیبت بُری ہے۔یہ لعنت قائم ہے اورہمیشہ قائم رہے گی۔یونانی اور ایرانی فلسفہ بھی یہی کہتا ہے۔یوروپین فلسفہ بھی یہی کہتا ہے غرض یہ ایک نہ مٹنے والا اصل ہے اس میں کبھی تغیر نہیں آسکتا۔کل اگر کوئی اور تہذیب آئےگی تو وہ بھی یہی کہے گی اس کے خلاف کوئی بات نہیں کہہ سکتی۔لَایُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَاھُمْ یُنْظَرُوْنَ فرماتا ہے کہ جب منکرین انبیاء کا پیمانۂ عمل لبریز ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی یہ سنّت ہے کہ وہ آسمانی عذاب میں جکڑے جاتے ہیں اور یہ عذاب ایسا ہوتا ہے کہ نہ تو اسے ہلکا کیا جاتا ہے اور نہ انہیں ڈھیل دی جاتی ہے۔ہاں عذاب کے آنے سے پہلے پہلے ان کے لئے موقع ہوتا ہے کہ وہ توبہ کر لیں۔لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے کوئی فائدہ نہ اٹھائیں اور انکار پر کمر بستہ رہیں اور خدائی نشانات کی تضحیک کرتے رہیں تو ایک دن عذاب الٰہی کے کوڑے ان پر برسنے شروع ہوجاتے ہیں اور پھر ان کی چیخ و پکار بالکل عبث ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو وہ لوگ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے فرستادوں کا مقابلہ کیا۔ہزاروں سال گذرنے کے باوجود آج بھی ان پر لعنت پڑ رہی ہے۔نمرود کو ہلاک ہوئے ہزاروں سال گذر گئے۔فرعون کو