تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 80
ہوتے ہیں۔لیکن جب بندے کے لئے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی ندامت کا اظہار کرنے اور جرم کا اقرار کرنے اور خدا تعالیٰ کی طرف جھک جانے کے ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے جرم کا اقرار کر کے ندامت کا اظہار کریں اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور دوسروں کی بھی اصلاح کریں اور اسلام پر پوری مضبوطی سے قائم ہو جائیں۔ایسے لوگوں کے قصور کو معاف کر کے میں پھر ان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہوں جہاں وہ پہلے ہوتے ہیں اور پھر میں اپنے پُرانے طریق پر ان کے لئے فضلوں کا سلسلہ شروع کر دیتا ہوں کیونکہ میں بڑا شفقت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہوں۔اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ جن لوگوں نے انکار کیا اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے ایسے لوگوں پر یقیناً اللہ کی اور فرشتوں کی لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۱۶۲خٰلِدِيْنَ اور لوگوں کی سب کی لعنت ہے۔وہ اس میں (پڑے )رہیں گے نہ (تو) فِيْهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ۰۰۱۶۳ ان (پر) سے عذاب ہلکا کیا جائے گااور نہ انہیں (سانس لینے کی )مہلت دی جائے گی۔تفسیر۔فرماتا ہے ان توبہ کرنے والوں کے بالمقابل جو لوگ کفر کی حالت میں ہی مر گئے۔ان پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہو گی۔اسی طرح ملائکہ اور سارے انسانوں کی لعنت ہو گی۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سارے انسانوں کی اُن پر لعنت ہو گی اس میں اور پہلی آیت میں جس لعنت کا ذکر کیا گیا ہے اس میں یہ فرق ہے کہ پہلے تو اللہ تعالیٰ نے صرف خاص لوگوں کو لعنت کرنے کی اجازت دی تھی۔کیونکہ وہاں لعنت سے مراد اُن کی تباہی کی پیشگوئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہی کیا کرتے ہیں مگر یہاں اُن کے متعلق پیشگوئی کرنا مقصود نہیں کیونکہ یہاں لعنت کرنےوالوں میں سب لوگوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔اور سارے کے سارے لوگ تباہی کی پیشگوئیاں نہیں کیا کرتے۔پس یہاں وہ لعنت مراد ہے جو فطرتی طور پر انسان کے دل سے اٹھتی ہے مثلاً اگر ایک چور کے سامنے بھی اگر چوری کا ذکر ہو تو وہ فوراً کہہ اُٹھتا ہے کہ چور بہت بُرے ہوتے ہیں