تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 78
جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے لعنت کا اختیار دیا ہوا ہے وہ بھی اُن پر لعنت ڈالیں گے۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے مامورین نے بھی اپنے دشمنوں پر لعنتیں ڈالیں بلکہ اب تک لوگ ان پر لعنتیں ڈالتے رہتے ہیں اور قیامت تک ان پر لعنتیں پڑتی رہیں گی۔بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بعض جگہ کئی کئی صفحوں میں مخالفین پر لعنت ڈالی ہے۔اور آپ متواتر لعنت لعنت لعنت لکھتے چلے گئے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ خیال کرتے ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ انہیں گالیاں دی ہیں۔حالانکہ آپ نے گالیاں نہیں دیں بلکہ ایک خدائی فیصلہ کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ لوگ اپنے بُرے اعمال کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی رحمت سے دُور چلے گئے ہیں۔جس طرح ایک مجسٹریٹ اگر کسی مجرم کو چھ ماہ قید کی سزا دے تو اس سزا کو درست اور قابلِ قبول قرر دیا جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی دوسرا شخص جسے گورنمنٹ نے فیصلہ کا کوئی اختیار نہ دیا ہو کسی مجرم کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ اُسے قید کر دیا جائے تو سب لوگ اُسے پاگل تصور کرتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے انبیاء بھی رُوحانی عالم کے مجسٹریٹ ہوتے ہیں۔اگر وہ مجرموں کو مجرم قرار نہ دیں اور اُن کے بارہ میں اپنا فیصلہ نافذ نہ کریں تو وہ خود مجرم بنتے ہیں۔پس اُن کا کسی پر لعنت ڈالنا قانون کے تابع ہوتا ہے اور ایسا کہنا اُن کے فرائضِ منصبی کے لحاظ سے ضروری ہوتا ہے لیکن دوسرے لوگ جو بلاوجہ لعنتیں ڈالتے رہتے ہیں وہ اپنی بداخلاقی اور کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُنہیں دوسروں پر لعنت ڈالنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَيَّنُوْا فَاُولٰٓىِٕكَ اَتُوْبُ ہاں ! مگر جنہوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور (خدا کے احکام کو )کھول کر بیان کر دیا تو ایسے لوگوں پر میں فضل عَلَيْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۰۰۱۶۱ کے ساتھ توجہ کروں گا۔اور میں (اپنے بندوں کی طرف) بہت توجہ کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہوں۔تفسیر۔ہمارے ملک میں عام طور پر لوگ توبہ صرف اس بات کا نام سمجھتے ہیں کہ زبان سے ایک دو دفعہ یہ فقرہ دہرادیا جائے کہ میری توبہ اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم ایسا کہہ دیں تو ہمارے سارے گناہ بخشے گئے۔حالانکہ صرف منہ سے توبہ توبہ کہہ دینا اور اپنے اعمال میں کوئی تغیر پیدا نہ کرنا کسی انسان کو مغفرت کا مستحق نہیں