تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 66
سے شہید ہوئے۔لیکن جہاں تک جسم کے کٹنے کا سوال ہے ان کو ضرور تکلیف ہوئی پس جسم بے شک دُکھ پاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہوتا ہے اُس بندے پر جس کی رُوح خدا کے آستانہ پر جُھکی رہے اور اس سے کہے کہ اے میرے رب! مجھے کوئی شکوہ نہیں تُو نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا۔یہی عین مصلحت تھی اور یہی چیز میرے لئے بہتر تھی۔تیرا فعل بالکل درست ہے اور گو مجھے سمجھ میں نہ آئے مگر میں یہی کہتا ہوں کہ تیرا کوئی کام حکمت کے بغیر نہیں۔(۶) پھر اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ میں ایک اور مضمون بھی بیان کیا گیا ہے۔اور وہ یہ کہ جب کوئی رنج انسان کو پہنچتا ہے۔تو فطرت کہتی ہے کہ میرے اندر آخر کوئی کمزوری تھی۔تبھی تو مجھے یہ دُکھ پہنچا۔اگر میں طاقتور ہوتا تو یہ دُکھ کیوں پہنچتا۔اب اس دُکھ کو کوئی طاقتور ہی دُور کر سکتا ہے۔غرض رنج ہمیشہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت مد د کرے۔اور جب انسانی ذہن کو فطرت اس طرف لے جاتی ہے کہ اب کوئی غیر طاقت ہی مدد کرے تو معاً اس کا دل اِدھر مائل ہوتا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس دُکھ کو دُور کرے۔چنانچہ اُس وقت وہ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ کہتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا ہی ہوں اور میں اسی سے مدد مانگتا ہوں اس کے سوااور کون ہو سکتا ہے جو میری مدد کرے؟اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ کے بے شک یہ بھی معنے ہیں کہ آخر ہم نے بھی اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے لیکن اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ اگر ہم نے لَوٹنا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف لَوٹنا ہے۔اگرہم نے گریہ وزاری کرنی ہے تو اس کے سامنے ہی کرنی ہے۔پس اسلام نے یہ سبق فطرت کے تقاضا کے عین مطابق دیا ہے جب کوئی رنج پہنچتا ہے تو یہ انسان کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے اس لئے وہ اُسے خود دُور نہیں کر سکتا۔وہ طبعاً یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے دوست اور عزیز اس کی مدد کریں۔مگر فرمایا یاد رکھو تمہارا سب سے بڑاعزیز اور دوست خدا تعالیٰ ہے۔تم اس کے سامنے جھکو اور اس سے مدد طلب کرو۔جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سبق پر عمل کرتے ہیں وہ ناکام و نامراد نہیں رہتے۔ناکام و نامراد وہی ہوتا ہے جو غیرطبعی فعل کرتا ہے۔مثلاً رات کو ڈاکہ پڑتا ہے تو عقلمند شخص اپنے عزیزوں اور دوستوں کے پاس جاتا ہے اور ان سے مدد طلب کرتا ہے لیکن بیوقوف انسان دوڑ کر جنگل کی طرف چلا جاتا ہے حالانکہ جنگل میں اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔اسی طرح روحانی دنیا میں ایک عقلمند انسان تو خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے لیکن بیوقوف یو نہی ہائے اماں ہائے اماں! کہتا رہتا ہے۔اب صاف ظاہر ہے کہ اماں نے کیا کرنا ہے جو کچھ کرنا ہے خدا تعالیٰ نے ہی کرنا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے پاس جاتا نہیں۔وہ اس کے پاس جاتا ہے جو کچھ نہیں کر سکتا۔پس انسان کا فرض ہے کہ جب اُسے کوئی رنج پہنچے تو وہ فوراًاِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ کہے۔یعنی اگر مجھ پر مصیبت آگئی ہے تو بقول پنجابی بزرگوں کے ’’مُلّا کی دوڑ مسیت تک‘‘ میں نے تو خدا تعالیٰ کی طرف جانا ہے اور