تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 54
دیتے ہیں۔کسی بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ قبرستان میں رہتے تھے ایک دفعہ کسی نے ان سے کہا کہ آپ زندوں کو چھوڑ کر قبرستان میں کیوں آگئے ہیں۔انہوں نے کہامجھے تو شہر میں سب مردے ہی مردے نظر آتے ہیں اور یہاں مجھے زندہ لوگ دکھائی دیتے ہیں(تذکرۃ الاولیاء از حضرت فرید الدین عطّار۔ابراہیم ادھم)۔پس رُوحانی مردوں اور رُوحانی زندوں کو پہچاننا ہر ایک کا کام نہیں۔مگر اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک ظاہری علامت ایسی بتا دی ہے جس سے روحانی مردوں اور زندوں کو پہچاننے میں بڑی حد تک آسانی ہوجاتی ہے۔وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ۔شعور وہ علم ہوتا ہے جو انسان کے اندر کی طرف سے باہر کو آتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی دوسرے سے کوئی بات سن کر ایک نتیجہ قائم کرے تو وہ شعور نہیں کہلائے گا۔وہ یہ نہیں کہہ سکے گا کہ میں نے شعور حاصل کر لیا۔بلکہ یہ کہے گا کہ مجھے علم ہو گیا۔لیکن اگر اس کے نفس کے اندر سے وہ بات پیدا ہو تو وہ کہے گا مجھے فلاں بات کا شعور ہوا۔چنانچہ جب ایک بچہ بالغ ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ وہ شعور کی عمر تک پہنچ گیا حالانکہ اس کو علم پہلے بھی حاصل ہوتا ہے۔بالوں کو شعار اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ اندر سے باہر کی طرف آتے ہیں اور شعار اس لباس کو کہتے ہیں جو جسم کے ساتھ چمٹا ہوا ہوتا ہے اور شعر کو بھی اسی لئے شعر کہتے ہیں کہ اس کے الفاظ اندر سے باہر آتے ہیں اور اس کا مضمون ایسا ہوتا ہے جو انسان کے اندرونی احساسات کا ترجمان ہوتا ہے اور اُسے پڑھ کر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ بات تو میرے اندر بھی پائی جاتی ہے۔چنانچہ غالب اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ؎ دیکھنا تقریر کی لذت کہ جواُس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ باتیں کہ شہداء کو ایک اعلیٰ درجہ کی حیات حاصل ہے۔یا ایک ایک شہید کی جگہ لینے کے لئے پچاس پچاس اور سو سو آدمی آئیں گے یا وہ رنج و غم سے کلی طور پرآزاد ہیں۔یا ان کے خون رائیگاں نہیں جائیں گے انسانی شعور سے تعلق رکھتی ہیں اگر کوئی شخص فطرتِ صحیحہ پر غور کرنے کا عادی ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز بھی قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ماں جب تک اپنی جان کی قربانی پیش نہیں کرتی اُسے بچہ حاصل نہیں ہوتا۔دانہ جب تک خاک میں مل کر اپنی جان کو نہیں کھوتا وہ ایک سے سات سو دانوں میں تبدیل نہیں ہوتا۔اسی طرح کوئی قوم زندہ نہیں ہو سکتی جب تک اس کے افراد جانوں کو ایک بے حقیقت شے سمجھ کر اُسے قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار نہ ہوں اور کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی جب تک اس کے افراد کے دلوں میں اپنے شہداء کا پورا احترام نہ ہو۔یہ ایک فطرتی آواز ہے جو شعور کے کانوں سے سنی جا سکتی ہے مگر جن لوگوں کو شعور حاصل نہیں۔وہ بات بات پر اعتراض کرتے رہتے ہیں اور جب بھی کسی مالی یا جانی قربانی کا مطالبہ کیا جائے ان کے قدم لڑکھڑانے