تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 541

اگرظاہری الفاظ کا ہی اتباع کیا جائے تو مفسرین کے بیان کردہ معنے یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ’’تیرا آسمان میں اِدھر اُدھر اپنا منہ پھیرنا‘‘۔اور یہ خود ایک ناقابلِ تسلیم بات ہے۔کیونکہ منہ کا آسمان میں تقلب کرنا ناممکن ہے پس الفاظ قرآنی ان معنوں کو برداشت نہیں کرتے۔اصل بات یہ ہے کہ فِیْ کے معنے اس جگہ اِلٰی کے ہیں۔اور اس کی مثال قرآن کریم میں بھی موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جَآءَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالبَیِّنٰتِ فَرُدُّ وْا اَیْدِیَھُمْ فِیْ اَفْوَاھِھِمْ( ابراہیم :۱۰) یعنی جب لوگوں کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تو انہوں نے ان کے ہاتھ ان کے مونہوں کی طرف لوٹا دیئے۔اس جگہ فِیْ اَفْوَاھِھِمْ سے ان کے مونہوں میں ہاتھ ڈالنا مراد نہیں بلکہ ان کی طرف لوٹانا مرا د ہے۔اسی طرح یہاں تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ سے آسمان میں اِدھر اُدھر منہ پھیرنا مرادنہیں بلکہ آسمان کی طرف آپ کی توجہ کا بار بار پھرنا مراد ہے ورنہ آسمان کی طرف مونہہ اُٹھاناتو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقار کے بھی خلاف تھا۔میرے نزدیک اس کے یہی معنے ہیں کہ ہم تیری توجہ کے بار بار آسمان کی طرف جانے کو دیکھ رہے ہیں۔اور یہ ایسا ہی فقرہ ہے جیسے ہماری زبان میں بھی کہتے ہیں کہ ہماری نظر تو فلاں طرف لگی ہوئی ہے۔یعنی ہمیں وہاں سے کامیابی کی اُمید ہے اسی طرح گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم ملا تھا۔مگر پُرانی پیشگوئیوں سے جو اللہ تعالیٰ نے اُس وقت تک ظاہر کی تھیں اور دوسرے کلام سے آپ کو معلوم ہوتا تھا کہ آخر قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ملے گا اور وہ ترقی کا پہلا زینہ ہو گا۔کیونکہ اسلام کی ترقیات کے زمانہ کا اس امر کو نشان قرار دیا گیا تھا۔پس آپ بار بار خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے تھے کہ کب کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ملتا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فِیْ اپنے اصلی معنوں میں ہو اور سماء سے مراد احکامِ سماوی ہوں اور معنے یہ ہوں کہ تیری توجہ کا آسمانی احکام کے متعلق تقلّب یعنی تیری توجہ آسمانی احکام کے متعلق تقلّب کر رہی تھی اور بے قرار تھی کہ وہ کب نازل ہوتے ہیں۔عربی زبان کا محاورہ بھی ہے کہ تَکَلَّمْتُ مَعَکَ فِیْ فُلَانٍ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میں نے تیرے ساتھ فلاں شخص کے بارے میں کلام کیا۔اس لحاظ سے قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَآءِ کے یہ معنے ہوںگے کہ ہم آسمانی احکام کے بارے میں تیری توجہ کا تقلّب دیکھ رہے ہیں۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے منتظر تھے کہ خدائی حکم نازل ہو اور آئندہ خانہ کعبہ کو قبلہ قرار دیا جائے۔فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ضرور تجھے اس قبلہ کی طرف پھیر دیںگے جسے تو پسند کرتا ہے۔یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ کے وہی معنے صحیح ہیں جو میں نے کئے ہیں۔کیونکہ اگر اس سے پہلے