تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 50
’’ اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا جو محض بیجان وجود تھا اور صرف اس میں سے آواز پیدا ہوتی تھی بنا لیا۔اور اتنا بھی غور نہیں کیا کہ وہ بولتا نہیں اور نہ انہیں کوئی ہدایت کی بات بتاتا ہے مگر بہر حال انہوں نے اسے اختیار کر لیا اور مشرک ہو گئے۔‘‘ (الاعراف : ۱۴۹)۔’’ اور اس سے (یعنی موسیٰ علیہ السلام کی واپسی سے) پہلے ہارون نے ان سے صاف کہہ دیا تھا کہ اس بچھڑے کے ذریعہ سے تمہارے ایمان کی آزمائش کی گئی ہے۔اور تمہارا رب تو رحمٰن ہے۔( یعنی کلام ہدایت نازل کرتا ہے حالانکہ یہ بچھڑا تو تم کو کوئی ہدایت نہیں دیتا) پس میری فرمانبرداری کرو اور جو میں تم کو کہتا ہوں اس پر عمل کرو( شرک نہ کرو) اس پر انہوں نے کہا کہ ہم تو جب تک موسیٰ واپس نہ آجائیں اِس بچھڑے کی عبادت میں مشغول رہیں گے۔‘‘ (طٰہٰ : ۹۱،۹۲) بچھڑے کے بنانے کے متعلق بائبل اور قرآن مجید کے بیان کا فرق بائبل اور قرآن کریم کے اِس بیان میں بہت بڑا فرق ہے۔اوّل تو قرآن کریم بنی اسرائیل کی گھبراہٹ کی وجہ بھی بتاتا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ابتداءًپہاڑ پر تیس رات رہنے کا حکم دیا گیا تھا ( لازماً حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے اس کا ذکر کر دیا ہو گا) پھر خدا تعالیٰ نے اپنے احسان کو مکمل کرنے کے لئے اس وعدہ کو چالیس رات تک بڑھا دیا (چالیس کا عدد روحانی دنیا میں تکمیل کا عدد ہے) اِس مدّت کے فرق کی وجہ سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کو موسیٰ ؑ کے واپس نہ آنے پر گھبراہٹ پیدا ہونے لگ گئی ہو گی۔کوئی خیال کرنے لگا ہو گا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔کوئی سمجھنے لگا ہو گا کہ شاید راستہ کی مشکلات کو دیکھ کر موسیٰ ؑ دھوکا دے کر ہمیں درمیان ہی میں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔تب انہوں نے بوجہ ایمان میں حدیث العہد ہونے کے اپنے لئے ارد گرد کی مشرک قوموں کی طرح بُت بنانے کی طرف توجہ کی۔بائبل کے بیان سے اس گھبراہٹ کی وجہ پر کوئی روشنی نہیں پڑتی۔بائبل کے بیان کے خلاف قرآن مجید کا حضرت ہارون ؑ کو شرک سے پاک قرار دینا دوسرے قرآنِ کریم وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ شرک دوسرے اسرائیلیوں نے کیا۔ہارون علیہ ا لسلام اس الزام سے کلّی طور پر پاک تھے بلکہ انہوں نے اسرائیلیوںکو شرک سے روکنے کے لئے پوری کوشش کی۔بائبل اس کے برخلاف ہارون ؑ کو جو ایک نبی تھے شرک میں نہ صرف شریک بتاتی ہے بلکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلیوں کے کہنے پر بِلا تردّد انہوں نے بُت بنانے پر رضا مندی ظاہر کر دی اور نہ صرف بچھڑا بنایا بلکہ ساری قوم کو اس کی عبادت کی دعوت دی۔لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ العَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔