تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 529

عمل کر سکتے ہیں مگر اس آیت میں ایک تو ایسا حکم نازل ہوا ہے جس پر عمل کرنے کی ہم میں طاقت ہی نہیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا۔اَتُرِیْدُ وْنَ اَنْ تَقُوْلُوْا کَمَا قَالَ اَھْلُ الْکِتٰبِ مِنْ قَبْلِکُمْ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا بَلْ قُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ فَلَمَّا اقْتَرَأَھَا الْقَوْمُ وَ ذَلَّتْ بِھَا اَلْسِنَتُھُمْ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْ اَثَرِھَا اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (مسلم کتاب الاِیمان باب بیان تجاوز اللہ تعالٰی عن حدیث النفس۔۔۔۔) یعنی کیا تم چاہتے ہو کہ تم وہی کہو جو اہل کتاب نے تم سے پہلے کہا تھا کہ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم کہو سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ جب صحابہ ؓ نے اپنے دل کی گہرائیوں سے یہ الفاظ کہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور انہوں نے اپنی گردنیں جھکا دیں۔اور اس کی مغفرت اور رحم کے طلبگار ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اظہار خوشنودی کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد پر صحابہ کرامؓ نے فوراً اپنی غلطی تسلیم کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی۔پھر یہ آیت منسوخ کس طرح ہو سکتی ہے نسخ تو کسی عمل کا ہوتا ہے اور یہاں کسی عمل کا ذکر نہیں۔پس یہ بالکل غلط ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں تزکیۂ نفس کے لئے خیالات کی پاکیزگی بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔بے شک خیالات کو کلّی طور پر پاک رکھنا تو ہر انسان کے لئے ناممکن ہے لیکن اگر کوئی بُرا خیال پیدا ہو تو اسے اپنے دل سے نکال دینا تو ہر انسان کے لئے ممکن ہے۔مثلاً اگر کسی شخص کے دل میں یہ خیال آئے کہ میں رشوت لوں تو وہ اس کے متعلق سوچنا اور مختلف قسم کی تدابیر عمل میں لانا شروع نہ کردے بلکہ جہاں تک ہو سکے اس خیال کو فوراً اپنے دل سے نکالنے کی کوشش کرے ورنہ اس کا نقش مضبوط ہوتا چلا جائے گا اور پھر اس خیال کا مٹانا سخت مشکل ہو جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی چلتے چلتے کہیں مال دیکھتا ہے اور اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میں اسے اٹھالوں تو صرف اس خیال کے آنے پر اس سے مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ہاں اگر اس خیال کے آنے پروہ سوچنا شروع کردے کہ میں کس طرح اس مال کو اٹھائوں اور کس وقت اٹھائوں تو اس کا یہ سوچنا اور تدبیریں کرنا قابل مؤاخذہ ہو گا۔غرض وہ خیال جو دل میں گڑ جاتا ہے اور جس کو سوچنے میں انسان لگ جاتا اور تدبیریں شروع کر دیتا ہے اس کا محاسبہ ہو گا۔ورنہ اگر کسی کو خیال آئے کہ میں چوری کروں اور وہ اسے فوراً … اپنے دل سے نکال دے تو وہ ایک نیکی کرتا ہے۔اسی طرح اگر کسی کو قتل کرنے کا خیال آئے لیکن وہ اسے اپنے دل سے نکال دے تو وہ نیکی کرنے والا سمجھا جائے گا۔سزا کا مستحق وہ اسی حالت میں ہوتا ہے جب وہ اس خیال پر قائم رہتا ہے۔غرض تزکیۂ نفس کی بنیاد انسانی