تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 525

اسے خود ایمانی لحاظ سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔اسلام اس قسم کے خدشات کا علاج یہ بتاتا ہے کہ قرض کے معاملہ کو اول ایک باقاعدہ معاہدہ کے ذریعہ ضبط تحریر میں لائو جس پر گواہوں کی گواہی بھی ثبت ہو۔دوم اگر باقاعدہ تحریر کا کوئی انتظام نہ ہو سکے جیسا کہ سفر کی حالت ہے تو رہن باقبضہ کی صورت میں قرض دےدو۔یوں تو حضر میں بھی رہن رکھنا جائز ہے بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ قرض لیا اور اپنی زرہ رہن رکھ دی۔(مسند احمد بن حنبل مسند عائشۃ ؓ) لیکن سفر کا خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں کوئی اور انتظام نہ ہو سکنے کی دقت موجود ہوتی ہے۔اس کے بعد نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ۔اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے متعلق مطمئن ہو اور اسے بلا رہن روپیہ دے دے تو وہ شخص جسے روپیہ دیا گیا ہے اور جسے امین جانا گیا ہے اس کا فرض ہے کہ دوسرے کے مطالبہ پر روپیہ بلاحجت واپس کر دے۔اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔اس جگہ قرض کو امانت قرار دیا گیا ہے جس میں یہ حکمت ہے کہ دنیا میں عام طور پر امانت کی ادائیگی تو ضروری سمجھی جاتی ہے۔لیکن قرض کی ادائیگی میں ناواجب تساہل اور غفلت سے کام لیا جاتا ہے اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرض بھی ایک امانت ہی کی قسم ہے۔کیا صرف اس وجہ سے کہ اس کے استعمال کی تم کو اجازت دی جاتی ہے اور تم پر احسان کیا جاتا ہے۔تم اس کی ادائیگی میں سستی کرتے ہو۔آخر امانت اور قرض میں کیا فرق ہے؟ یہی کہ امانت ایسی حالت میں رکھوائی جاتی ہے جبکہ امین کو ضرورت نہیں ہوتی اور قرض اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ اسے ضرورت ہوتی ہے۔ایسی صورت میں قرض لینے والے پر دوسرے کا احسان ہوتا ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ وقت پر خندہ پیشانی سے قرض ادا کردے۔ضمنی طور پر اس آیت سے ہر قسم کی امانتوں کی حفاظت اور ان کی بروقت واپسی کا بھی ایک عام سبق ملتا ہے جس کی طرف قرآن کریم کی ایک دوسری آیت وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ (المومنون: ۹) میں بھی اشارہ کیا گیا ہے اور نصیحت فرمائی ہے کہ تمدنی معاملات کی ایک اہم شاخ دوسرے کے پاس امانت رکھوانا بھی ہے۔پس نہ صرف قرض کے معاملات میں بلکہ امانت کے معاملہ میں بھی تمہیں تقویٰ اللہ سے کام لینا چاہیے ایسا نہ ہو کہ امانت لینے والا آئے اور تم واپسی میں پس وپیش کرنے لگ جائو۔پھر ایک اور نصیحت کرتا ہے۔فرماتا ہے وَلَاتَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ۔تم آپس کے لین دین کے معاملات میں ہمیشہ سچی بات کیا کرو اور کبھی کسی گواہی کو چھپانے کی کوشش نہ کرو۔ورنہ تمہارا دل گناہ گار ہو جائے گا۔اور جب دل گندہ