تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 524

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ اور اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے تو (اس کا قائم مقام ) رہن باقبضہ ہے۔فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ پس اگر تم میں سے کوئی شخص کسی (دوسرے )کو امین جانے اور (اسے کچھ رقم دے دے )تو جسے امین سمجھا گیا ہو اَمَانَتَهٗ وَ لْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ اسے چاہیے کہ اس کی (یعنی امانت رکھنے والے کی )امانت کو( عند الطلب) واپس کر دے۔اور اپنی ربوبیت کرنے يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۸۴ والے اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔اور تم گواہی کو(کبھی) مت چھپاؤ۔اور جو اسے چھپائے وہ یقیناً ایسا (شخص )ہے جس کا دل گنہگار ہے۔اور (یاد رکھو کہ )جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔حلّ لُغات۔رِھٰنٌ مصدر بھی ہے۔اور رِھْنٌ کی جمع بھی۔اور اَلرَّھْنُ کے معنے ہیں۔مَا وُضِعَ وَثِیْقَۃً لِلدَّیْنِ۔وہ چیز جسے قرضہ حاصل کرنے کے لئے بطور ضمانت رکھا جائے۔وَقِیْلَ الرَّھْنُ لُغَۃً اَلْحَبْسُ مُطْلَقًا وَ کَثِیْرًا مَّا یُطْلَقُ عَلَی الشَّیْءِ الْمَرْھُوْنِ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رھن کا لفظ مطلق حبس پر بھی استعمال ہوتا ہے۔لیکن زیادہ تر استعمال اس چیز پر ہوتا ہے جسے قرض کے لئے گرو رکھا جائے۔(اقرب) اُؤْتُمِنَ اِءْ تَمَنَہٗ کے معنے ہیں عَدَّہٗ اَمِیْنًا اَوِ اتَّخَذَہٗ اَمِیْنًا اسے امین سمجھا یا امین بنا لیا۔اِنَّہٗ میں ضمیر شان استعمال ہوئی ہے اور اس کے معنے ہیں ’’بات یہ ہے‘‘۔تفسیر فرماتا ہے۔اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں کوئی کاتب اور وثیقہ نویس نہ ملے تو اس کا قائم مقام رہن باقبضہ ہے۔تمہیں چاہیے کہ تم اپنی کوئی چیز قرض دینے والے کے پاس بطور رہن رکھوا دو تاکہ اسے اپنے روپیہ کے ضائع ہونے کا خطرہ نہ رہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام قرض کے معاملہ میں کتنی احتیاط اور دوراندیشی سے کام لینے کی ہدایت دیتا ہے اور کس طرح قدم قدم پر مومنوں کے اموال اور ان کے ایمان کی حفاظت کرتا ہے۔اگر ان قواعد کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص قرض کا انکار کر دے اور اس طرح دوسرے کو مالی لحاظ سے اور