تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 470

وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۲۶۳ (محفوظ )ہے۔اور نہ تو انہیں کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔حلّ لُغات۔اَلْمَنُّ کے معنے ہیں مَنَّ عَلٰی مَا صَنَعَ کسی پر احسان کر کے اُسے جتلانا۔مثلاً کہتے ہیں۔اَعْطَیْتُکَ کَذَا وَ فَعَلْتُ مَعَکَ کَذَا۔میں نے فلاں وقت تیرے ساتھ یہ سلوک کیا تھا اور تجھے یہ کچھ دیا تھا۔عربوں کا محاورہ ہے کہ اَلْمَنُّ اَخُو الْمَنِّ۔کہ احسان جتلانا کاٹ ڈالنے کے برابر ہے۔مَنَّ کے معنے کاٹنے کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ دوسرا مَنَّ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔(لسان العرب) اَذًی تکلیفؔ پہنچانا۔گندیؔ بات۔گندؔ۔حدیث میں آتا ہے۔اَمِیْطُوْا عَنْہُ الْاَذٰی۔یعنی جب بچہ سات دن کا ہو جائے۔تو وہ نجاست وغیرہ جو وہ اندرسے اپنے ساتھ لاتا ہے او ربال اس سے دُور کر دو۔(لسان العرب) تفسیر۔لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى میں بتایا کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں مال خرچ کرنے کے بعد تمہاری یہ کیفیت نہیں ہونی چاہیے کہ تم میں تکبر کے خیالات پیدا ہو جائیں او رتم یہ کہنا شروع کردو کہ ہم نے تو یہ کچھ دیا تھا۔یوں مال قربان کیا تھا۔یوں خدمتِ دین کی تھی۔کیونکہ ایسا کرنا تمہاری نیکی کو ضائع کر دے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورۂ حجرات میں اَعراب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا۔(الحجرات:۱۸)اے محمد رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) وہ اپنے اسلام قبول کرنے کا بھی تجھ پر احسان جتاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دے کہ لَا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ۔تم مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ جتائو۔بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ھَدَاکُمْ لِلْاِیْمَانِ۔اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راہ دکھایا اور ایک سچے مذہب کو قبول کرنےیکی توفیق بخشی۔اسی طرح مالی قربانیوں کے بعد دوسروں پر احسان جتانا سخت نادانی ہے۔کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اس نے خدا کے لئے کام نہیں کیا تھا بلکہ بندوں کو ممنونِ احسان کرنے کے لئے کیا تھااور یہ چیز اسے ثواب سے محروم کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک مقام پر اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے۔’’ یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دےکر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجا لا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو۔بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے۔… پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو۔اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا