تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 461

درحقیقت بنی اسرائیل کی موت تھی اور اللہ تعا لیٰ اس ذریعہ سے انہیں یہ بتا نا چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل سو سال تک غلامی اور ادبار کی حالت میں رہیں گے اس کے بعد ان کو ایک نئی زندگی عطا کی جا ئےگی اور وہ اپنے شہر میں وا پس آ جائیںگے۔اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ اس جگہ رؤیا کا کو ئی لفظ نہیں۔مگر قر آ ن کریم کا یہ طریق ہے کہ وہ بعض دفعہ رؤیا کا تو ذکر کر تا ہے مگر رؤیا کا لفظ استعمال نہیں کرتا۔چنا نچہ حضرت یو سفعلیہ السلام نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو جب بتا یا کہ میں نے دیکھا ہے کہ چاند اور سورج وغیرہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں تو انہوں نے رؤیا کا لفظ استعمال نہیں کیا۔پس یہ ضروری نہیں ہو تا کہ خواب کے ذکرمیں خواب کا لفظ بھی استعمال کیا جائے۔جب وہ یہ نظارہ دیکھ چکے تو ان کو اٹھایا گیا۔یعنی ان کی کشفی حالت جاتی رہی۔اور خدا تعالیٰ نے ان سے پو چھا کہ كَمْ لَبِثْتَ بتا تو کتنے عرصہ تک اس حالت میں رہا انہوں نے عر ض کیا لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ۔میں تو صرف ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہا ہوں۔محا ورہ میں اس کے یہ معنے ہیں کہ اچھی طرح معلوم نہیں۔چنا نچہ یہ محاورہ قرآن کریم میں بعض دوسرے مقا مات پر بھی استعمال کیا گیا ہے۔فر ما تا ہے۔کَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ ( المو منون: ۱۱۳،۱۱۴) یعنی اللہ تعالیٰ کفار سے فر ما ئے گا کہ تم زمین میںکتنے سال رہے ہو؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے ہیں۔تُوگننے والوں سے پو چھ لے یعنی ہم بہت تھوڑا عر صہ رہے ہیں یا ہمیں معلوم نہیں کہ کتنا عرصہ رہے۔حضرت حزقیل کا یہ جواب ادب کے طور پر تھا کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کا اس سوال سے کیا منشاہے۔یعنی بات تو ظاہر ہے کچھ دیر ہی سو یا ہوں۔قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ۔اللہ تعالیٰ نے فر ما یا کہ اس بات کے علاوہ جو تیرے دل میں ہے ہم ایک اور بات بھی بتاتے ہیں۔اور وہ یہ کہ تُو سو سال تک رہا ہے۔یہاں بَلْ میں پہلے قول کی نفی نہیں کی گئی بلکہ ایک اور بات بیان کی گئی ہے۔جیسے قر آن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فر ما یا ہے۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى۔وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى۔بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا۔وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى۔(الاعلٰی:۱۵ تا ۱۸) یعنی جو شخص پاک بنے گا وہ یقیناً کامیاب ہو گا بشر طیکہ اس نے اپنے ربّ کا نام لیا اور نماز پڑھتا رہا۔مگراے مخا لفو! تم ورلی زندگی کو آ خرت پر تر جیح دیتے ہو۔حا لا نکہ آ خرت کہیں زیادہ بہتر اور دیر پا ہے۔اس آ یت میں بَلْ سے پہلے کی بات بھی درست ہے اور بعد کی بھی۔اسی طرح اس آیت میں بَلْ کے لفظ سے حضرت حز قیل کے اس خیال کی کہ وہ دن یا دن کا کچھ حصہ اس حالت میں رہے تر دید مدّ نظر نہیں بلکہ اس کے علاوہ ایک اور مضمون کی طرف ان کے ذہن کا انتقال کیا ہے اور بتا یا ہے کہ ایک نقطہ نگاہ سے دیکھوتو تم نے سو سال اس حالت میں گزارے ہیں۔مگر چونکہ نبی کا قول بھی اپنی جگہ درست تھا اس لئے اس خیال سے کہ نبی خدا تعالیٰ کے قول کو مقدم رکھ کر اپنے