تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 460
سر زمین میں بسائوں گا۔تب تم جانو گے کہ مجھے خداوند نے کہااور پورا کیا۔" (حزقیل باب۳۷ آیت ۱ تا ۱۴) یہ پیشگوئی ہے جو حزقیل نبی نے کی۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو اس وقت بابل میں قید تھے۔وہ اس بستی کے پاس سے کب گزرے؟ سو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ہو سکتا ہے یہ گزرنا بھی خواب میں ہی ہو۔جیسا کہ بائیبل کے الفاظ سے ظاہر ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ نبو کد نضر جو بابل کا بادشاہ تھا اس نے ۵۸۶ قبل مسیح یروشلم پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا تھا۔اور اس کا ایک حصہ گرا دیا تھا۔وہ وہاں کے بادشاہ اور اس کے خاندان کے تمام افراد کو پکڑ کر اپنے ملک میں لے گیا۔اسی طرح شہر کے تمام شرفاء اور بڑے بڑے کا ریگروں کو بھی قید کر کے لے گیا۔اور سوائے چند رذیل لوگوں کے وہاں کوئی باقی نہ رہا(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ یروشلم Jerusalam)۔حضرت حزقیل بھی ان قیدیوں میں ہی تھے(حزقیل باب ۳ آیت ۱۵) جنہیں نبو کد نضر نے گرفتار کیا۔ان کے متعلق بحث ہوئی ہے کہ انہیں اس نے کیوں پکڑا؟ اور مؤرخین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ چونکہ وہ لوگوں کو ترغیب دیتے تھے کہ نبوکد نضر کا مقابلہ کرو اور اپنے ملک کو نہ چھوڑو اس لئے وہ ان کو بھی قیدکر کے لے گیا۔پرانی تاریخوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ جن شہروں کو گراتے اورویران کرتے تھے وہاں کے قیدیوں کو وہ ان کے اوپر سے گزارتے تھے تاکہ انہیں اپنی ذلّت اور بیچارگی کا احساس ہو۔میرے نزدیک جب وہ پکڑے گئے اور یروشلم کے اوپر سے گزارے گئے اس وقت انہوں نے اس کے متعلق خدا تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ خدایا یہ کیا ہو گیا ہے ؟ شہر گرا دیا گیا ہے۔سب بڑے بڑے لوگ قید کر کے لے جائے جا رہے ہیں۔ایسی خطرناک تباہی کے بعد اب یہ شہر دوبارہ کب آباد ہو گا؟ وَ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا کے الفاظ بھی اسی امر پر دلالت کرتے ہیں کہ یروشلم کے تباہ ہوتے ہی ان کے دل میںیہ خیال پیدا ہواجب کہ گری ہوئی چھتیں انہیں نظر آ رہی تھیں۔ورنہ بعد میں تو لوگ سا مان اٹھا کر لے جاتے ہیں۔اس وقت ان کے دل میںیہ خیال گزرا کہ الٰہی !یہ شہر دوبارہ کب آباد ہو گا۔ہم تو سب قید ہو کر جا رہے ہیں۔اس پر اللہ تعا لیٰ نے ان کو سو سال کی موت کا نظارہ دکھا یا۔یعنی کشفی رنگ میں انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور سو سال کے بعد پھر زندہ ہوئے ہیں۔اور خوا بوں میں ایسا ہونا کو ئی تعجب انگیز امر نہیں۔انسان خواب میں مر تا بھی ہے اور مختلف قسم کے نظارے بھی دیکھتا ہے۔حضرت حز قیل چو نکہ اپنی قوم کے نبی تھے۔اس لئے ان پر کشفی رنگ میں مو ت کی کیفیت وارد کر نے سے مرا د