تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 447
میں یہی مراد ہے کہ وہ شیطان کی با توں کو ردّ کر تا اور خدا تعالیٰ کی با توں کو ما نتا ہے۔ایسے شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى۔عروہ کے معنے دستہ کے بھی ہو تے ہیں جس سے کسی چیز کو پکڑا جاتا ہے اور عُروہ اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس پر اعتبار کیا جائے اور عُر وہ کے معنے ایسی چیز کےبھی ہیں جس کی طرف انسان ضرورت کے وقت رجوع کرے۔اور عُر وہ اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو ہمیشہ قا ئم رہے اور کبھی ضا ئع نہ ہو۔اور عُر وہ بہترین مال کو بھی کہتے ہیں (۱) اگر عُر وہ کے معنے دستہ کے لئے جا ئیں تو اس آ یت کا یہ مطلب ہو گا کہ دین کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی لطیف چیز قرار دیا ہے جو کسی بر تن میں پڑی ہوئی ہو اور محفوظ ہو اور انسا ن نے اس بر تن کا دستہ پکڑ کر اسے اپنے قبضہ میں کر لیا ہو(۲) پھر عُر وہ کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دین ایک ایسی چیز ہے جس کا انسا ن سہارا لے لیتا ہے تا کہ اسے گر نے کا ڈر نہ رہے۔جیسے سیڑ ھیوں پر چڑھنے کے لئے انسان کو رسّہ کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ اسے پکڑ لیتا ہے۔اسی طرح دین بھی اس رسّہ کی طر ح ایک سہارا ہے۔اسے مضبوط پکڑ لینے سے گر نے کا ڈر نہیں رہتا۔(۳) عروہ کہہ کر یہ بھی بتا یا کہ اگر انسان اسے مضبوطی سے پکڑ لے تو وہ ہر مصیبت کے وقت اس کے کام آتا ہے۔(۴) عُروہ میں اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ صرف دین ہی انسا ن کے کام آ نے والی چیز ہے۔اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔با قی تمام تعلقات عارضی ہو تے ہیں اور مصیبت کے آ نے پر ایک ایک کر کے کٹ جاتے ہیں۔بیشک انسان اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی اپنا بہترین رفیق قرار دیتا ہے۔لیکن بسا اوقات ان سے کمزوری یا بے وفائی ظا ہر ہو جاتی ہے اور اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ حقیقی تعلقات وہی ہیںجن کی بنیادیں دین اور مذہب پر استوار کی جائیں اور انہی میں بر کت ہوتی ہے۔اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۙ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لاتے ہیں۔وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓـُٔهُمُ۠ الطَّاغُوْتُ١ۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ روشنی کی طرف لاتا ہے۔اور جو کافر ہیں ان کے دوست نیکی سے روکنے والے (لوگ )ہیں۔اور انہیں روشنی سے مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔وہ لوگ آگ (میں پڑنے) والے ہیں۔