تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 446

بتا تی ہیں کہ مذ ہبی جنگیں تبھی جا ئز ہیں جبکہ کو ئی قوم رَبُّنَا اللّٰہَ کہنے سے روکے۔یعنی دین میں دخل دے اور چا ہے کہ دوسری اقوام کے معا بد گرائے جائیں اور ان سے ان کا مذ ہب چھڑوایا جائے یا ان کو قتل کیا جائے۔ایسی صور ت میں اسلام اس قوم سے جنگ کی اجا زت دیتا ہے۔کیو نکہ اسلام دنیا میں بطور شا ہد اور محا فظ کے آ یا ہے نہ کہ بطور جا بر اور ظا لم کے۔فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چا ہیے کہ کفر کے معنے صرف انکار کر نے کے ہو تے ہیں خواہ وہ کسی چیز کا انکار ہو۔قرآ ن کریم میں یہ لفظ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور بُرے معنوں میں بھی۔اس جگہ یہ لفظ اچھے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اوراللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ جو لوگ شیطا نوں اور شیطا نی لو گوں کی باتیں ما ننے سے قطعی طو ر پر انکار کر دیتے ہیں اوراللہ تعالیٰ پر سچے دل سے ایمان لے آ تے ہیں وہ ایک مضبوط چٹان پر قا ئم ہو جاتے ہیں۔لیکن اس کے مقا بلہ میں قرآ ن کریم میں یَکْفُرُوْنَ بِا للّٰہِ (النسا ء: ۱۵۱) بھی آ تا ہے کہ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کا انکار کر تے ہیں۔پس جہاں تک اس لفظ کے ظاہر کا تعلق ہے۔یہ نہ بُرا ہے نہ اچھا ہے۔اصل معنے تو اس کے ڈھا نپ دینے کے ہو تے ہیں۔بدی کا ڈھا نپنا بھی کفر کہلائےگا اور نیکی کا ڈھا نپنا بھی کفر کہلا ئےگا۔بدی کا چھپا نا بھی کفر کہلا ئےگا اور نیکی کا چھپا نا بھی کفر کہلا ئےگا۔لیکن چو نکہ کثرت سے قر آ ن کریم میں یہ لفظ نیکی کے انکار کے متعلق استعمال ہوا ہے اس لئے جب کسی قر ینہ کے بغیر یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے بُرے ہی کئے جاتے ہیں۔جس طرح مومن کے معنے بھی ایسے ہی ہیں لیکن وہ زیادہ تر نیکی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس لئے جب مومن کا لفظ بغیر کسی قرینہ کے استعمال ہو تو اس کے معنے ہمیشہ نیک کے ہی کئے جا ئیں گے حا لانکہ قر آن کریم میں مومن کا لفظ بھی بر ے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ فر ما تاہے۔یُؤْ مِنُوْنَ بِا لْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ۔(النسا ء: ۵۲) وہ بےفائدہ با توں اور حد سے بڑھنے والوں پر ایمان رکھتے ہیں۔اس جگہ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ میں طا غوت کا کفر کر نے سے اس کی ذات کا انکار مراد نہیں بلکہ یہ مرا دہے کہ اس کی بات نہ ما نے۔اس کے مقا بلہ میںاللہ تعالیٰ نے ایمان کا لفظ رکھا ہے جس کے معنے خدا تعالیٰ کی بات ما ننے کے ہیں اور فر ما یا ہے کہ جو شخص طا غوت کا انکار کر تا ہے۔اوراللہ تعالیٰ پر ایمان لا تا ہے وہ ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیتا ہے جو کبھی ٹوٹتا ہی نہیں۔اگر انکار کے معنے کسی شے کی ذات کے انکار کے لئے جائیں تو اس آ یت کے یہ معنے ہوںگے کہ ہلا کت سے وہی شخص بچتا ہے جو شیطان کے وجود کا انکار کرے اوراللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار کرے حالانکہ یہ معنے سرا سر غلط ہیں۔کیو نکہ قر آ ن کریم صاف طور پر خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی اقرار کر تا ہے اور شیطان کے وجود کا بھی اقرار کر تا ہے۔پس اقرار اور ایمان سے اس آیت