تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 439

حد یثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیا مت کے دن آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اِذن ہو گا تب آ پ سفا رش کریں گے(ترمذی کتاب صفة القیامة باب ما جاء فی الشفاعة) پھر کیسا نا دان ہے وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ فلاں میری سفا رش کر دےگا! پھر ایک اور بات رہ جا تی ہے اور وہ یہ کہ کو ئی کہہ سکتا ہے کہ مانا شفا عت بلا اجا زت نہیں ہو سکتی۔لیکن با دشاہ کے جس طر ح درباری ہو تے ہیں اور ان کے ذریعہ بادشاہ تک رسا ئی حاصل کر کے فا ئدہ اٹھا یا جا تاہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھی درباری ہو نے چا ہئیں۔اللہ تعالیٰ فرما تا ہے۔ان احمقوں کواتنا بھی پتہ نہیں کہ دنیا کے با دشاہ کیوں درباری رکھتے ہیں۔وہ تو اس لئے رکھتے ہیں کہ انہیں ان سے حا لات معلوم کر نے کی ضرورت ہو تی ہے کیو نکہ با دشا ہ نہیں جا نتا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو تمہاری اگلی پچھلی سا ری با تیں جا نتا ہے۔پھر اس کو درباری رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ کے دو معنے ہیں۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی جا نتا ہے جو آ گے ہو نا ہے اور اسے بھی جا نتا ہے جو لوگ پیچھے کر چکے ہیں۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا موں کو بھی جا نتا ہے جو وہ کر رہے ہیں اور ان کا موں کو بھی جا نتا ہے جو انہیں کر نے چا ہیے تھے۔لیکن انہوں نے ترک کر دئیے۔پھر اسے کیا ضرورت ہے کہ درباری رکھے؟ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ۔پھر اس کے علوم کا کو ئی شخص احا طہ نہیں کر سکتا کسی کو اس کی حقیقت اپنی کو شش سے معلوم نہیں ہو سکتی۔ہاں! جس کو وہ آپ ہی بتا دے اور جس قدر بتا دے وہ اتنا ہی جا نتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔اس آ یت میں خدا تعالیٰ نے صاف طورپر بتا دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم کا کو ئی احا طہ نہیں کر سکتا۔نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور نہ کوئی اور شخص۔بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تمام نبیوں کے سردار اور اللہ تعالیٰ کےبڑے محبوب ہیں بلکہ آ پ کی اتباع کرنےوالا بھی خدا تعالیٰ کا محبوب ہو جا تا ہے مگر با و جود اس کے آ پ خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اسی کے محتاج تھے۔پس آ پ کے اندر وہی صفات رہیں گی جو بندوں میں ہو تی ہیں اور وہ صفات کبھی نہیں آ سکتیں جو خدا نے صرف اپنے لئے مخصوص کی ہو ئی ہیں۔لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ میں اس امر کی طر ف بھی تو جہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں اتنی غیر محدود ہیں کہ انہیں کلی طور پر طے کر نےکا کو ئی انسان خیال بھی نہیں کر سکتا۔جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑ ھتا ہے اور وہ اپنے مقام کے مطا بق اس کے انوار و بر کات کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے تواللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس پر اپنی دوسری تجلّی ظاہر کرتا ہے اور جب وہ دوسری تجلّی کو بھی برداشت کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ دیکھتا